.

ترک لڑاکا طیاروں کی کرد عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر عراق میں بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ انقرہ کے لڑاکا طیاروں نے عراقی پہاڑی سلسلے قندیل میں کردستان ورکرز پارٹی کے اجلاس کو نشانہ بنایا۔ ترکی کا دعویٰ ہے کہ اجلاس میں غیر قانونی کرد پارٹی کے سرکردہ عسکری رہنما شریک تھے۔

ترکی نے ایران اور عراق کی سرحد سے ملنے والے شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے قندیل پہاڑی سلسلے میں ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ انقرہ کا خیال ہے کہ قندیل پہاڑی سلسلے میں کردستان پارٹی کے سرکردہ عسکری رہنما قیام پذیر ہیں۔

ترک حکومت کا مزید کہنا ہے کہ شمالی عراق سے تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پر قندیل پہاڑیوں کے قریب ترک فوجی دستے عراق کے اندر تعینات ہیں۔

چینل 7 کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ایردوآن کا کہنا تھا کہ ان کے لڑاکا طیاروں نے قندیل پہاڑی سلسلے میں کردستان ورکرز پارٹی کے اہم اجلاس جس میں سرکردہ عسکری رہنما بھی شریک تھے کو نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترک فوج اس فضائی حملے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان سے متعلق تفصیلات چند گھنٹوں بعد جاری کرے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ تازہ ترین کارروائی میں ہم نے کردستان پارٹی کے اہم اجلاس کو نشانہ بنایا ہے۔ ابھی ہمیں کارروائی کے نتائج سے متعلق معلومات نہیں ملیں، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ ہم نےانہیں نشانہ بنایا ہے۔

ترکی نے حال ہی میں شمالی عراق میں قندیل پہاڑی سلسلے میں کردوں کے خلاف زمینی کارروائیوں میں اضافے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ ایردوآن کے بقول انہوں نے حالیہ پیش رفت سے متعلق ایرانی صدر حسن روحانی سے تبادلہ خیال کیا تھا جس میں دونوں رہنماوں نے علاقائی سیکیورٹی کے تحفظ کے لئے باہمی رضامندی ظاہر کی تھی۔

شمالی عراق میں قندیل پہاڑی سلسلہ ایران اور عراق کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ عراق کی مرکزی حکومت ان دنوں کافی حل تک ایران کے زیر اثر ہے۔

ترکی نے کرد انتہا پسندوں کے خلاف عراق میں ممکنہ کارروائی سے متعلق بغداد حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، تاہم ان مذاکرات کو مئی میں ہونے والے انتخاب کے نتیجے میں بننے والی نئی حکومت کے جاری رکھنے سے متعلق فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف عراق میں کی جانے والی تازہ کارروائی دو ہزار سولہ کے بعد کی جانے والی تیسری سرحد پار کارروائی ہے۔ کرد ملیشیا جنگجووں کے خلاف پہلی دو کارروائیاں ترکی نے شمالی شام کے علاقوں میں کی تھیں۔ شام میں کارروائی کے ذریعے ترکی نے اپنی جنوب مشرقی سرحد کا بڑا علاقہ آزاد کرایا تھا۔