الحدیدہ پر کنٹرول اب’’ لمحوں کا معاملہ‘‘ رہ گیا: انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ کی مکمل آزادی اب صرف لمحوں کا معاملہ رہ گیا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی مدد سے یمنی فوج گذشتہ بدھ سے الحدیدہ شہر اور اس کی بندر گاہ کو حوثی باغیوں کے قبضے سے واگزار کرانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کررہی ہے۔ متحدہ عر ب امارات عرب اتحاد کا حصہ ہے اور اس کی بری فوج اور فضائیہ بھی اس آپریشن میں حصہ لے رہی ہے۔

انور قرقاش نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ عرب اتحاد الحدیدہ میں فوجی پیش قدمی کے دوران میں بڑی محتاط کا مظاہرہ کررہا ہے تاکہ شہریوں کے کسی قسم کے جانی نقصان سے بچا جاسکے‘‘۔

انھوں نے بتایا ہے کہ الحدیدہ کی بندر گاہ کی جانب جانے والے تمام راستوں میں حوثیوں نے بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔ہم فرانس کی جانب سے الحدیدہ میں نصب بارودی سرنگوں کی تلفی کے لیے امداد کی پیش کش کو سراہتے ہیں‘‘۔

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ’’ الحدیدہ کی آزادی صنعاء کو واگزار کرانے کی کارروائی میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’حوثی ملیشیا امدادی سامان لے کر آنے والے بحری جہازوں کو الحدیدہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے سے روک رہی ہے جبکہ اسی بندرگاہ کے ذریعے ایران سے اسلحہ اسمگل کرکے حوثیوں کو بھیجا جارہا ہے‘‘۔

اماراتی وزیر نے کہا کہ ہم نے الحدیدہ سے صنعاء کی جانب جانے والی شاہراہ کو حوثی ملیشیا کے لیے کھول دیا ہے تاکہ وہ کسی مزاحمت کے بغیر شہر کو خالی کرکے چلے جائیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا آج نیویارک میں بند کمرے کا اجلاس ہورہا ہے۔ اس میں یمن کی تازہ صورت حال کے بارے میں غور کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس کونسل کے ارکان کو جنگ زدہ ملک میں اپنے جامع امن منصوبے کی تفصیل سے آگاہ کریں گے اور انھیں حوثیوں کی قیادت سے اپنی حا لیہ بات چیت کے بارے میں بھی بتائیں گے۔

انور قرقاش کے بہ قول مارٹن گریفتھس حوثیوں کو الحدیدہ اور صنعاء سے پُرامن طریقے سے انخلا پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں