ایران میں اسٹاک ایکسچینج کی تیزی معاشی بحران سے خبردار کرتے ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں اتوار کے روز تہران اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار 1967ء میں افتتاح کے بعد بلند ترین سطح پر رہا۔

سرمایہ کاروں کا دوڑ کر اسٹاک مارکیٹ اور مقامی حصص کا رخ کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کاروبار کرنے والے افراد کو اس بات کی شدید تشویش لاحق ہے کہ جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ اس علاحدگی سے کئی اقتصادی سیکٹروں پر پابندیاں عائد ہوں گی اور سیکڑوں ارب کے سمجھوتوں کی منسوخی یا ان کی مکمل فنڈنگ سے محرومی کا خطرہ ہے۔

عید الفطر کے بعد اتوار کی صبح تہران اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز ہوا تو انڈیکس پہلی مرتبہ 1 لاکھ سے تجاوز کر گیا۔ اس طرح کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 3.33% کے اضافے کے ساتھ 102452.4 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔

گزشتہ ماہ 8 مئی کو واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علاحدگی کے اعلان کے بعد سے تہران اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی علاحدگی کا مطلب ایران کے خلاف وہ تمام امریکی پابندیاں پھر سے نافذ العمل ہو جائیں گی جو 2015 میں طے پائے گئے جوہری معاہدے کی رُو سے معلّق کر دی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں متعدد غیر ملکی سرمایہ کار جو 2016ء سے ایران واپس آ گئے تھے اب کوچ کر جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

کاروبار کے لیے اس غیر موزوں ماحول میں اسٹاک انڈیکس میں اضافے کو ایرانی میڈیا نے مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے مقابل محفوط آماج گاہ شمار کیا ہے۔

گزشتہ آٹھ ماہ میں ایرانی ریال نے ڈالر کے مقابل اپنی قدر میں 45% سے زیادہ کی کمی دیکھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں