برطانیہ نے یو این انسانی حقوق کونسل کے اسرائیل مخالف مبیّنہ تعصب کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے بعد برطانیہ بھی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اسرائیل کی حمایت میں کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اس نے کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے خلاف مبیّنہ متعصبانہ سلوک کا سلسلہ بند کردے اور اس سے معاملہ کاری میں اصلاح پیدا کرے۔

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل کے اڑتیسویں اجلاس کی متنازع ایجنڈا آئیٹم نمبر سات پر تنقید کی ہے۔اس کے تحت فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بحث کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ایجنڈا آئیٹم سات میں صرف اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔یہ امن کے نصب العین کے لیے ضرررساں اور غیر متناسب ہے۔ جب تک چیزیں تبدیل نہیں ہوتی ہیں،اس وقت تک ہم آیندہ سال کے دوران میں اس آئیٹم کے تحت متعارف کرائی جانے والی تمام قرار دادوں کی مخالفت میں و و ٹ دیں گے‘‘۔

تاہم مسٹر بورس جانسن کا کہنا تھا کہ کونسل اسرائیلی ،فلسطینی تنازع کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔کونسل کے اجلاس میں اس آئیٹم کے تحت صرف اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فلسطینیوں کے خلاف مظالم کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

امریکا ، بعض یورپی ممالک اور آسٹریلیا نے بھی اس آئیٹم پر تنقید کی ہے اور اس کو اسرائیل کے خلاف متعصبانہ قرار دیا ہے۔ان کا موقف ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران میں جن دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کی گئی ہیں،ان کا کونسل کے ایجنڈے میں ذکر نہیں ہے۔ان میں شام سرفہرست ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ماضی میں آئیٹم سات پر تنقید کی تھی اور اس کو واپس نہ لینے کی صورت میں کونسل کو خیر باد کہنے کی دھمکی دے دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں