.

سلامتی کونسل: یمن کے حوالے سے بند کمرے کا اجلاس آج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیر کے روز یمن کے حوالے سے ایک بند کمرے کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ کونسل کے ارکان کو یمن کے لیے اپنے جامع امن منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ گریفتھ نے 17 اپریل کو اپنی پہلی بریفنگ میں وعدہ کیا تھا کہ دو ماہ بعد وہ دوسری بریفنگ پیش کریں گے۔

ادھر اقوام متحدہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ صنعاء میں گریفتھ کی الحدیدہ کے حوالے سے حوثی ملیشیا کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی تین روزہ دورے کے بعد آج دارالحکومت صنعاء سے کوچ کر جائیں گے۔

اطلاعات کے مطابق حوثی ملیشیا کے رہ نماؤں نے گریفتھ کے ساتھ بات چیت میں الحدیدہ کی بندرگاہ سے انخلاء اور اسے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ایلچی کی تجویز پر غور کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کیا۔

یمن کی آئینی حکومت نے باغیوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے کہ ان کی ہٹ دھرمی اور بین الاقوامی کوششوں کا مثبت جواب نہ دینے کے سبب انسانی اور سیاسی پہلو سے کسی بھی خطرناک پیش رفت کی ذمّے داری حوثیوں پر ہو گی۔

یمنی حکومت نے الحدیدہ اور مغربی ساحل کے دیگر علاقوں کے حوالے سے حوثی ملیشیا کی کارستانیوں کی بھی سخت مذمت کی۔ حوثیوں نے مذکورہ علاقوں میں سڑکوں، سرکاری دفاتر اور رہائشی علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھا دیں۔ علاوزہ ازیں عسکری علاقوں کے نزدیک رہائشی علاقوں کے مکینوں کو باہر نکلنے سے روک دیا گیا ہے۔