.

آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کی انسداد دہشت گردی معاہدے میں شمولیت پر معترض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عالمی فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) میں اپنے ملک کی شمولیت پر اعتراض کردیا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے بدھ کو پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے ارکان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے قانون کا مسودہ تیار کریں ۔ایرانی پارلیمان گذشتہ ماہ ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کے مطابق منی لانڈرنگ سے نمٹنے اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے کے لیے قانون سازی میں ناکام رہی تھی ۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ’’ اس معاہدے کے بعض حصے مفید ہیں اور یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے‘‘۔انھوں نے کہا:’’ اس کا حل یہ ہے کہ پارلیمان خود اپنا قانون بنائے ۔ہمیں ایسی چیزیں قبول کرنے کی ضرور ت نہیں جن کے بارے میں ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوگا‘‘۔

واضح رہے کہ ایران کے سخت گیر ایف اے ٹی ایف کو ایک نوآبادیاتی معاہدہ خیال کرتے ہیں۔اس میں شمولیت کے بعد ایران اپنی اتحادی ملیشیاؤں کو دہشت گرد تنظیموں کے احتساب کے تحت امداد نہیں دےسکے گا۔

دوسری جانب یورپی ممالک ایرانی حکومت پر ایف اے ٹی ایف میں شمولیت پر زور دے رہے ہیں۔یہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بعض شقوں کا بھی حصہ ہے لیکن ایران نے ان پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔

ایرانی رجیم میں شامل سخت گیر اس معاہدے کو اسلامی انقلاب ، اس کے نظریے اور نظام کے خلاف گردانتے ہیں ۔انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس معاہدے پر دستخط سے ایرا ن کے انتہا پسند گروپوں کے ساتھ تعلقات منقطع ہوجائیں گے۔ایران ان گروپوں کو مالی ، فوجی اور سیاسی مدد وحمایت مہیا کررہا ہے ۔

معاہدے میں شمولیت کے بعد ایران ان کی حمایت جاری نہیں رکھ سکے گا اور اس کی پروردہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ ، یمن کی حوثی ملیشیا اور عراق میں شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے بعض یونٹوں کو بہت جلد بین الاقوامی دہشت گرد گروپ قرار دے دیا جائے گا۔