.

پاسداران انقلاب کا بجٹ بڑھانے پر روحانی اور سلیمانی کے درمیان تلخ کلامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صحافتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی اور فیلق القدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے درمیان پاسداران انقلاب کا بجٹ بڑھائے جانے اور خطے میں ایران کی عسکری مداخلت کے حوالے سے تلخ کلامی ہوئی ہے۔

ایرانی اخبار ’جہان صنعت‘ نے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں رہ نماؤں کےدرمیان تلخ کلامی جمعہ کو عید کے روز ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے جب کہ جب صدر حسن روحانی جمعہ کا خطبہ دینے سے قبل منبر پرآئے، اس سے قبل کہ وہ کوئی بات کرتے جنرل قاسم سلیمانی نے انہیں خبردار کیا کہ اگرانہوں نے سپاہ پاسداران انقلاب اور فیلق القدس کے بجٹ میں اضافے کی حمایت نہ کی تو اس کے نتیجے میں اختلافات مزید بڑھ سکتےہیں۔ اس پر حسن روحانی نے سخت الفاظ میں انہیں جواب دیا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے دونوں رہ نماؤں کے درمیان مداخلت کی اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف تلخ کلامی سے روکا۔

خیال رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے یمن، شام، عراق، لبنان اور دیگر کئی ممالک میں فوجی مداخلت کے باعث اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکا کی طرف سے ایران پر عاید کی گئی نئی پابندیوں کے باعث تہران کو سخت معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ھیلی نے حال ہی میں ایک بیان میں انکشاف کیا تھا کہ ایران بشارالاسد کے اقتدار کو بچانے کے لیے سالانہ چھ ارب ڈالر کی رقم خرچ کررہا ہے۔ دوسری جانب بیرون ملک ایران کے جنگی اخراجات کے نتیجے میں ایرانی عوام مفلوک الحال ہے اور آئے روز ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی استحصال کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل کراحتجاج پر مجبور ہیں۔