.

یورپی فرمیں ایران میں اپنے کاروباری مفادات کا کیوں تحفظ نہیں کر پائیں گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیر خزانہ برونو لی میری نے کہا ہے کہ ایران میں کاروبار کرنے والی بیشتر فرانسیسی کمپنیوں کے لیے امریکا کی عاید کردہ نئی پابندیوں کے بعد وہاں ایسا کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ا ن کمپنیوں کو ایران میں اپنی مصنوعات اور اشیاء کی قیمت کی ادائی نہیں ہوسکے گی کیونکہ یورپ کا کوئی بھی مالیاتی ادارہ انھیں تحفظ مہیا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ فرانسیسی وزیر خزانہ کا یہ بیان ایران میں کاروبار کے حوالے سے زمینی صورت حال کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8مئی کو جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد ایران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان کے تحت ایران اور امریکا میں کاروبار یا ڈالر میں لین دین کرنے والی کسی بھی فر م کے خلاف کارروائی کی جاسکے گی۔

معاشی پولیس مین

فرانسیسی حکومت نے اپنے طور پر اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی ہے۔لی میری کا کہنا ہےکہ ہم یورپیوں کو خود مختارانہ اختیار کے ساتھ آزادانہ طور پر کاروبار کا فیصلہ کرنا چاہیے اور امریکا کو اس کرۂ ارض پر ایک اقتصادی پولیس مین کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔

ان کے بہ قول ان کے بہت سے یورپی ہم منصب اپنی فرموں کے لیے امریکی پابندیوں سے استثنا کی کوشش کررہے ہیں۔ان میں سے بعض نے تاریخی جوہری سمجھوتے سے امریکا کی علاحدگی کے بعد ایران کا بھی دورہ کیا ہے۔

بعض یورپی کمپنیاں ایران میں اپنی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن بیشتر نے اپنا اپنا کاروبار سمیٹ کر واپسی کا ارادہ کر لیا ہے۔ ان میں فرانس کی بڑی تیل کمپنی ٹوٹل اور کارساز ادارہ پی ایس اے شامل ہیں۔البتہ رینالٹ کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں کے باوجود ایران میں کاروبار جاری رکھے گی۔

ایران کے آٹو اور شہری ہوابازی کے سیکٹروں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی عاید کردہ نئی پابندیوں کا 6 اگست سے اطلاق ہوگا ۔ امریکی انتظامیہ کے بعض عہدے داروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی فرد اور ادارے کے خلاف پابندیاں عاید کردی جائیں گی خواہ وہ یورپی ہی کیوں نہ ہوں۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے بھی گذشتہ ماہ کہا تھا کہ’’ یورپی کمپنیوں پر پابندیاں ممکن ہیں اور اس کا انحصار دوسرے ممالک کے طرز عمل پر ہے‘‘۔

امریکی پابندیوں کے بعد ایران میں کاروبار کے بدتر حالات کے باوجود یورپی بآسانی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور وہ امریکا کی تھوڑی بہت مزاحمت ضرور کریں گے۔گذشتہ ماہ یورپی یونین کے رکن ممالک نے ایران کے ساتھ تیل اور گیس کے شعبے میں 23 ارب ڈالرز کے کاروباری سودوں کو بچانے کے لیے مہم شروع کی تھی۔

یورپی یونین کے توانائی کمشنر میجوئل آریاس کینٹے نے ہفتے کے روز تہران کا دورہ کیا تھا اور انھوں نے ایران سے تیل اور گیس کی خریداری جاری رکھنے اور یورپی کمپنیوں کے تحفظ کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا ۔

ایرا ن کی یورپی یونین سے دوطرفہ باہمی تجارت کا حجم 20 ارب یورو ہے۔یورپی یونین کے ممالک اسپین ، فرانس ، اٹلی ، یونان ، نیدر لینڈز اور جرمنی ایران سے زیادہ تر تیل خرید کرتے ہیں۔