.

کانگریس ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی کانگریس نے ایران کی منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ اگر ایران کی یہ پالیسی بدستور جاری رہتی ہے تو اس کے نتیجے میں کانگریس تہران کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے الگ کردے گی۔

امریکی کانگریس میں سینٹ کے سرکردہ ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ترغیب دینا شروع کی ہے کہ وہ عالمی رہ نماؤں پر دباؤ ڈالے تاکہ ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کیا جاسکے۔ کانگریس میں یہ مساعی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب حال ہی میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے عالمی پابندیوں کے ہوتے ہوئے خفیہ طورپر ایران کی ہارڈ کرنسی تک رسائی میں مدد فراہم کی تھی۔

کانگریس کے ایک گروپ کی جانب سے جمعرات کو وزارت خزانہ کےنام ایک مکتوب ارسال کیا گیا جس کی تفصیلات’فری بیکن‘ ویب سائیٹ پر شائع کی گئیں۔ یہ مکتوب سینٹر روپ پورٹمن، اڈ ریوس اور دیگر نے ٹرمپ انتظامیہ پرزور دیا ہے کہ وہ عالمی مالیاتی امور کے نگران ایکشن گروپ’FATF‘ کو ایران کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے لیے قائل کرے کیونکہ ایران مسلسل منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کےدور میں ’FATF‘ گروپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے کے بعد بہ تدریج ایران کو بلیک لسٹ سےنکال دیا تھا مگر موجودہ امریکی صدر ڈنلڈ ٹرمپ نے مئی میں ایران کے ساتھ طے پایا جوہری معاہدہ ختم کردیا۔ اب ایک بار پھر امریکی کانگریس اور حکومت ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے لیے عالمی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔