.

یو این ایلچی یورپی یونین کو یمن تنازع کے حل کے لیے امن منصوبہ پیش کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس آیندہ سوموار کو لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں یمن کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کریں گے۔

سرکاری ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یورپی یونین یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے گریفتھس کے پیش کردہ امن منصوبے کی حامی ہے۔

یہ توقع کی جاتی ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ الحدیدہ شہر میں لڑائی کے دوران یمنی شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیں گے اور تنازع کے تمام متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے پر زور دیں گے۔

یورپی یونین کے خارجہ اور سکیورٹی امور کے ترجمان ماجا کوسیجن چک نے ایک بیان تنازع کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ ’’وہ دوبارہ مذاکرات کا آغاز کریں کیونکہ ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور بحران کا کوئی بھی حل اقوام متحدہ کی نگرانی میں مذاکرات کے ذریعے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے‘‘۔

عرب اتحادی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے برسلز میں جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ اتحاد کے پاس بہت سے آپشنز موجود ہیں اور ان میں پیشگی فوجی آپریشن بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔

یورپی یونین کے چار بڑے رکن ممالک فرانس ، اٹلی ، جرمنی اور برطانیہ فروری سے ایران کو یمن کے حوثی شیعہ باغیوں کی فوجی مدد وحمایت سے روکنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایران حوثیوں پر تنازع کے سیاسی حل کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اب یمن میں فوجی توازن حوثیوں کے حق میں نہیں رہا ہے۔اس تنازع کا کوئی فوجی حل بھی نہیں ہے۔اس لیے حوثی ملیشیا کو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سے تنازع کے حل کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔