.

طیب ایردوآن کا ا علانِ فتح ، صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں آق کی واضح برتری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کے بعد گنتی کا عمل جاری ہے اور کل ڈالے گئے ووٹوں میں 96 فی صد کی گنتی مکمل ہوگئی ہے ۔صدارتی انتخابات کے غیر حتمی اور جزوی نتائج کے مطابق صدر رجب طیب ایردوآن کو قریباً 53 فی صد ووٹوں کے ساتھ اپنے حریف امیدواروں پر برتری حاصل ہے۔انھوں نے صدارتی انتخابات میں اپنی فتح کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ قوم نے صدارت کے لیے ان پر اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔

صدر ایردوآن کے مد مقابل قریب ترینامیدوار سیکولر ری پبلکن پارٹی کے محرم انیچ نے 31 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ گنتی مکمل ہونے کے بعد صدارتی امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کی شرح میں رد وبدل ہوسکتا ہے۔ صدر طیب ایردوآن اپنی برتری کو پچاس فی صد سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ برقرار رکھتے ہیں تو 8 جولائی کو دوبارہ دوسرے مرحلے میں صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کی نوبت نہیں آئے گی۔

سی این این ترک اور دوسرے مقامی نشریاتی اداروں کے مطابق صدر ایردوآن کی حکمراں جماعت انصاف اور ترقی پارٹی ( آق ) نے پارلیمانی انتخابات میں ڈالے گئے 61.1 فی صد ووٹوں میں سے 45.18 فی ووٹ حاصل کر لیے ہیں ۔اس کی اتحادی قومی تحریک پارٹی نے 11.78 ووٹ حاصل کیے ہیں۔اس طرح ان دونوں جماعتوں کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل ہونے کی امید ہے۔

ترکی میں پہلی مرتبہ وسط مدتی صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے بیک وقت ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 88 فی صد رہی تھی۔

دوسرے دو صدارتی امیدواروں قوم پرست گڈ پارٹی کے میرل اکسنر نے سات فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔کرد نواز پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار صلاح الدین ڈیمریتس کے حق میں چھے فی صد سے بھی کم ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

ڈیمو کریٹک پارٹی کو پارلیمانی انتخابات میں بھی کوئی زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔اس کو 10 فی صد سے بھی کم ووٹ حاصل ہوئے ہیں ۔اگر وہ کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے دس فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کرسکی تو پھر اس کے حصے میں پارلیمان کی کوئی نشست بھی نہیں آئے گی۔