.

ترکی میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں آج اتوار کے روز صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ تقریبا ساڑھے دس برس قبل اقتدار تک پہنچنے کے بعد رجب طیب ایردوآن اور ان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے لیے حالیہ انتخابات ایک چیلنج ہیں۔

یہ انتخابات ترکی میں ایک طاقت ور صدارتی نظام کے نفاذ کا آغاز بھی ہوں گے جس کے لیے ایردوآن طویل عرصے سے کوشاں ہیں۔ سال 2017ء میں ہونے والے ریفرینڈم میں ترکوں کی ایک تھوڑی تعداد نے اس نظام کے حوالے سے ایردوآن کی حمایت کی تھی۔

ترکی کی جدید تاریخ میں رجب طیب ایردوآن مقبول ترین اور ساتھ ہی سب سے زیادہ اختلاف کے حامل رہ نما شمار کیے جاتے ہیں۔ ملک میں انتخابات کا انعقاد نومبر 2019ء میں ہونا تھا تاہم ایردوآن نے قبل از وقت انتخابات کی تاریخ پیش کر دی۔ ایردوآن کے مطابق نئے اختیارات کے ذریعے وہ زیادہ بہتر صورت میں ترکی کی بڑھتے ہوئے اقتصادی مسائل سے نمٹنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

رواں برس ڈالر کے مقابل ترک لیرہ کی قدر میں 20% تک کمی واقع ہوئی۔ اس دوران ترکی کو ملک کے جنوب مشرق کے علاوہ عراق اور شام میں کرد باغیوں کا بھی سامنا رہا۔

حالیہ انتخابات میں ایردوآن کے سب سے بڑے حریف طبیعیات کے سابق پرفیسر اور سیکولر جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار محرم انجہ ہیں۔ تازہ ترین سروے میں 5.6 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز میں انہیں 30% ووٹ دیے گئے۔

پولنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے ہوا اور یہ سلسلہ شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ ترکی کی 8.1 کروڑ کی مجموعی آبادی میں رجسٹرد ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ کے قریب ہے۔

سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایردوآن صدارتی انتخابات ے پہلے دور میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے تاہم آٹھ جولائی کو دوسرے دور میں ان کی جیت متوقع ہے۔ ایردوآن کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت سے ہاتھ دھو سکتی ہے۔ یہ صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئے تناؤ کا شاخسانہ ہو گا۔

دیگر صدارتی امیدواروں میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ صلاح الدین دمرداش ہیں۔ کُردوں کی حمایت کرنے والے دمرداش اس وقت دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت جیل میں ہیں۔ وہ مذکورہ الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اگر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے پارلیمنٹ میں داخلے کے لیے مطلوب 10 فی صد کی حد سے تجاوز کیا تو پھر جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے لیے اکثریت کا حصول مشکل ہو جائے گا۔