.

شام کے حوالے سے ایران کے بغیر امریکا کی روس سے مفاہمت کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنوبی شہروں میں اسد رجیم اور اس کی حامی فورسز کی جانب سے حالیہ پیش قدمی کے بعد امریکا نے اسد رجیم اور اس کے حلیف روس کو خطرناک نتائج کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسد رجیم کی جانب سے مزید نفری جنوبی شہروں کو روانہ کرنے پر امریکی وزارت خارجہ نے سخت الفاظ میں رد عمل ظاہر کیا ہے۔ امریکی حکومت نے اسد رجیم اور روس دونوں کو خبردار کیا ہے کہ جنوبی شام میں جنگ بندی کی کسی بھی نوعیت کی خلاف ورزی کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ امریکا نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حلیف اسد رجیم کو جنوب مغربی علاقوں میں مہم جوئی سے باز رکھے ورنہ اسے اس کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا شام کے معاملے میں روس کےساتھ اس انداز میں ڈیل کرنا چاہتا ہے تاکہ ایران کا شام میں عمل دخل کم ہوجائے۔

روس پر عدم اعتماد

جنوب مغربی شام میں اسدی فوج کی پیش قدمی کے بعد امریکا نے روس اور شام کو جس طرح تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ امریکا کو روس کے کردار پر سخت مایوسی ہے۔اس کی وجہ ہے کہ دونوں ملک شام میں دہشت گردی بالخصوص’داعش‘ کی سرکوبی کے لیے مل کر لڑنے پرمفاہمت کرچکے ہیں۔ امریکا اور روس کی جانب سے یمن کی اعتدال پسند اپوزیشن کے تعلقات کوبہتر بنانے کے لیے مساعی جاری رکھنے پر بھی اتفاق رائے موجود ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ روس اور امریکا کے درمیان شام کے حوالے سے یہ بات طے کی گئی تھی کہ ایران اور اس کی حامی فورسز جنوبی سرحد سے دور رہیں گی مگر اب امریکیوں کو خدشہ ہے کہ ماسکو قابل اعتبار نہیں رہا ہے اور اس کے ساتھ طے پائے تمام معاملات ختم ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جنوبی اور جنوب مغربی شام کی طرف سرکاری فوج کی پیش قدمی اور روس کی اس پر خاموشی نے امریکی خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کےایک عہدیدار نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس نے اسد رجیم کے ساتھ مل کر جنوبی سرحد سے ایرانی حمایت یافتہ فورسز کو نکالنے کا وعدہ کیا تھا اور طے پایا تھا کہ اردن اور اسرائیل کی سرحد پر شام کی اعتدال پسند قوتوں کو مضبوط کرنے کا موقع دیا جائے گا۔