.

سعودی خاتون ڈاکٹر کا بیٹے کے ساتھ کار چلاتے ہوئے پہلا سفر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خواتین کے کار چلانے پر عاید پابندی کے خاتمے کے بعد ایک خاتون نے اپنے پہلے سفر کو ایک منفرد انداز میں یادگار بنایا ہے۔ سعودی محکمہ صحت میں کام کرنے والی اس خاتون ڈاکٹرنے پہلی مرتبہ اپنے بیٹے کو ساتھ بٹھا کر کار چلائی ہے۔

ڈاکٹر تغرید العوہلی نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈرائیونگ دراصل ان کی ایک حقیقی ضرورت تھی کیونکہ انھیں اپنے بچے کو اسکول لے جانا پڑتا ہے۔پھر کام کی جگہ اور گھر کے درمیان سفر کرنا ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کہ ’’ ایک ڈرائیور کو ملازمت پر رکھنا کبھی ایک عیاشی نہیں رہا ہے جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں‘‘۔انھوں نے اتوار کی صبح دارالحکومت الریاض کی شاہراہوں پر کار چلائی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد اور خاوند کار چلانا سیکھنے کے عمل میں ان کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں۔

ڈاکٹر تغرید نے کہا کہ ’’ میں آج بہت خوش ہوں ۔مجھے خود اور سعودی عرب کی تمام خواتین کے لیے اس تاریخی موقع پر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ میں نے چودہ سال قبل کار چلانا سیکھا تھا۔میرے والد کا یہ خیال تھا لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو ڈرائیونگ آنی چاہیے لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک روز میں سعودی عرب کی شاہراہوں پر از خود کار چلا رہی ہوں گی‘‘۔