.

’مہنگائی‘ کے خلاف آواز اٹھانے والے ایرانی طلباء کو کڑی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مہنگائی اور معاشی استحصال کے خلاف آواز بلند کرنے والے طلباء کو نام نہاد انقلاب عدالتوں کی جانب سے کڑی سزائیں دی جا رہی ہیں اور انہیں قید وبند میں ڈال کرحکومتی ناکامیوں پرعوام کا منہ بند کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں ایران کی ایک عدالت نے مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانے والے جامعات اور اسکولوں کے طلباء کی بڑی تعداد کو جیلوں میں ڈالنے کا حکم دیا۔ ان میں سے بعض کو آٹھ سے دس سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ سزا پانے والوں میں ایک 12 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

ایرانی صدر کی خاتون مشیرہ برائے شہری حقوق شھیندخت مولا وری نے شکایت کی ہے کہ حکومت کو علم ہے کہ عدالت نے جامعات کے طلباء کو مہنگائی کے خلاف آواز بلند کرنے پر کڑی سزائیں دینا شروع کی ہیں۔

ایک بیان میں شھیندخت مولا وری نے کہا کہ حکومت طلباء کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو طلباء کو دی جانے والی سزاؤں کا علم ہے اور اب ہم ان کے کیسز کی پیروی کررہےہیں تاکہ سزاؤں پر نظر ثانی کرائی جاسکے۔

خیال رہے کہ ایران میں دسمبر 2017ء کو ملک گیر احتجاج کی ایک لہر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ’مہنگائی نا منظور‘ کے نعرے کے ساتھ اٹھنے والی اس تحریک نے 100 شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ایرانی رجیم نے عوامی احتجاج کچلنے کے لیے طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا اور بڑی تعداد میں شہریوں جن میں طلباء بھی شامل تھے کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان کے خلاف عدالتوں میں ریاست کے خلاف کام کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات چلائے گئے۔