.

یمن میں بارودی سرنگوں کی تلفی کے لیے سعودی منصوبے ’’ ماسام‘‘ کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز نے یمن میں بارودی سرنگوں کو تلف کرنے کے پانچ سالہ منصوبے ( ماسام) کا آغاز کردیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی تلفی کے لیے اس منصوبے کے آغاز کے موقع پر منعقدہ تقریب بعض سعودی شہزادے ، وزراء ، سینیر حکام ، سفارت کار اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ شرکاء کو تقریب کے دوران میں ایک دستاویزی فلم کے ذریعے اس منصوبے کی تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔

شاہی دیوان کے مشیر اور شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز کے نگرانِ اعلیٰ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مملکت سعودی عرب نے اپنے قیام کے بعد اپنے ہمسایہ اور برادر دوست ممالک میں اسلامی تعلیمات کے مطابق بہت سے خیراتی کام کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ اس ضمن میں ہمارے یمنی بھائی سرفہرست آتے ہیں اور انھیں سعودی عرب کی جانب سے گراں قدر امداد مہیا کی جارہی ہے۔سعودی اور یمنی عوام آپس میں گہری ہمسائیگی کے علاوہ ثقافتی ، سماجی ، خاندانی اور مذہبی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں‘‘۔

حوثیوں کی نصب کردہ لاکھوں بارودی سرنگیں

یمنی حکومت نے حوثی ملیشیا پر ملک بھر میں دس لاکھ سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے دھماکوں سے دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر یمنی شہری ہیں۔

یمنی وزیر خارجہ خالد الیمنی کا کہنا ہے کہ ’’قومی مائن ایکشن پروگرام نے 2018ء کے آغاز کے بعد سے دو لاکھ 28 ہزار سے زیادہ بارودی سرنگیں اور جنگ کی باقیات ختم کی ہیں‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ مارچ 2015ء سے مارچ 2018ء کے درمیان میں ان بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں 1194 افراد ہلاک او ر 2287 زخمی ہوگئے تھے۔ ان میں 216 بچے اور 72 خواتین بھی شامل تھیں ۔مہلوکین اور زخمیوں میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

یمنی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والی بارودی سرنگوں کو افراد کے خلاف استعمال کرنے کے نئے طریقے ایجاد کیے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کا زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔انھوں نے کثیر مقاصد بارودی سرنگیں ایجاد کی ہیں اور انھیں ریڈیو کے ذریعے کنٹرول کرکے دھماکا کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سے بعض براہ راست ایرا ن سے بھیجی گئی ہیں۔

خالد الیمنی کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے جس طرح کسی نقشے کے بغیر ہر کہیں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں، ا س سے مستقبل میں خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ انھوں نے ان کھلونا بموں کے علاوہ بحیرہ احمر میں بین الاقوامی گذرگاہ میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی تلفی کے لیے اقوام متحدہ سے یمنی حکومت کی مدد کی اپیل کی ہے۔

یمن کے وزیر برائے انسانی حقوق محمد عسکر نے بتایا ہے کہ حوثیوں نے اب تک دس لاکھ سے زیادہ بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔ انھوں نے حوثیوں پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ بچوں کو استعمال کرکے اپنے خالی کردہ علاقوں میں مکانوں ، اسپتالوں اور عبادت گاہوں میں جان بوجھ کر کھلونا بارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں اور ان کے دھماکوں سے مرنے والے یمنیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔