.

سعودی شوریٰ کونسل سرپرستی نظام کے خاتمے کے لیے کام کررہی ہے: شہزادی ریما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی شہزادی ریما بنت بندر آل سعود نے کہا ہے کہ شوریٰ کونسل مرد وں کی سرپرستی کے خاتمے کے لیے کام کررہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو کار چلانے کی اجازت دینا درست سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

شہزادی ریما نے سی این این سے انٹرویو میں کہا کہ سرپرستی کا نظام ایک اہم ایشو ہے اور شوریٰ کونسل مسلسل اس پر کام کررہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ حکومت میں ایک عورت کی حیثیت سے میرا کردار ایسے ایشوز کو اجاگر کرنا ہے جن کی مدد سے ہم تمام خواتین مثبت انداز میں آگے بڑھ سکیں، نہ کہ صرف اشرافیہ کی خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع ملیں‘‘۔

شہزادی ریما سعودی اسپورٹس اتھارٹی کی نائب صدر ہیں۔انھو ں نے انٹرویو میں یہ واضح نںیا کیا کہ کب مملکت میں نافذ العمل سرپرستی کے قوانین میں تبدیلی لائی جائے گی۔ البتہ انھوں نے کہا کہ سرپرستی (گارڈین شپ) کے قوانین خواتین کو ڈرائیونگ یا کسی ملازمت کے حصول سے نہیں روکتے ہیں۔تاہم ان قوانین کے تحت خواتین کے گھر سے باہر سفر پر کچھ قدغنیں عاید ہیں اور وہ مقررہ حد عمر سے قبل شادی نہیں کرسکتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ایک اقتصادی حکمت عملی کے تحت تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں تاکہ افرادی قوت میں بالخصوص خواتین کی تعداد بڑھائی جاسکے۔

شہزادی ریما کا کہنا تھا کہ ’’خواتین کی ڈرائیونگ کا ایشو بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ محض سفر اورایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،اس سے ایک عورت کو یہ موقع ملے گا کہ وہ ایک پیشہ ور کے طور پر کردار ادا کرے ۔وہ اب آزادانہ طور پر کار چلا سکتی ہے‘‘۔

ایک شاہی فرمان کے ذریعے سعودی خواتین کو 24 جون سے مملکت میں کاریں چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔اب ڈرائیونگ لائسنس کی حامل سیکڑوں خواتین خود کاریں چلا رہی ہیں اور مزید ایک لاکھ سے زیاد ہ نے لائسنس کے حصول کے لیے محکمہ ٹریفک کے ہاں اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔