ٹرمپ کی ٹویٹ پر ریستوران کی مالکن کمیونٹی نمائندگی سے مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ریاست ورجینیا کے شہر لیکسنگٹن میں "Red Hen" ریستوران کی شریک مالکن اسٹیفینی ویلکنسن نے ایک مقامی گروپ کی انتظامیہ سے استعفا دے دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹوئیٹ کے ذریعے پیر کے روز مذکورہ ریستوران پر تنقید کی بوچھار کے بعد سامنے آئی۔ اس سے قبل جمعہ کے روز اسٹیفینی نے وہائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز اور ان کے اہل خانہ کو اس وجہ سے ریستوران سے باہر نکال دیا تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے کام کرتی ہیں۔

ادھر ریپبلکنز اور ٹرمپ کے حامیوں نے سارہ سینڈرز کے واقعے کے بعد ریستوران کے سامنے مظاہرہ کیا۔

اس سے قبل امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے سبک دوش ہونے والی شریک مالکہ اسٹیفینی کا کہنا تھا کہ "میں مقابلے تلے دبی ہوئی نہیں۔ میرے پاس کام ہے اور میں چاہتی ہوں کہ وہ پھولے پھلے۔ تاہم ہماری جمہوریت میں کبھی ایسا لمحہ بھی آتا ہے جب شہریوں کو اپنی اخلاقیات کے تحفظ کے لیے غیر اطمینان بخش فیصلے کرنا پڑتے ہیں"۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئیٹ میں ریڈ ہین ریستوران کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے اسے اندر اور باہر سے "گندا" قرار دیا تھا۔

وہائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے خود کے ریستوان سے نکالے جانے کے بعد فوری طور پر اپنی ٹوئیٹ میں ریستوان کی شریک مالکہ پر کڑی نکتہ چینی کی۔ سارہ کا کہنا تھا کہ ریستوران کی مالکہ کا برتاؤ ان کی شخصیت کو ظاہر کرتا ہے البتہ وہ اپنے ساتھ اختلاف رکھنے والوں کا احترام کرتی رہیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں