مراکش : 2016ء میں احتجاجی تحریک کے قائدین کو 20 سال تک جیل کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مراکش کی ایک عدالت نے 2016ء میں ملک میں احتجاجی مظاہروں کی تحریک کے لیڈروں کو بیس سال تک قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔

اس احتجاجی تحریک کے لیڈروں نے ملک کے شمالی علاقے ریف میں واقع شہر الحسیمہ کئی روز تک حکومت کے خلاف مظاہرے کیے تھے،انھوں نے علاقے کی ترقی ، لوگوں کو روزگار دینے اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے مطالبات کیے تھے ۔اس تحریک کے نمایاں لیڈروں ناصر الزفزافی ، نبیل احمجیق ، عوعصیم بوستیتی اور سمیر ایغید کو ریاستی امن و امان کو سبو تاژ کرنے کے الزامات میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

کیسا بلانکا کی اپیل عدالت نے منگل کی شام کل 53 افراد کو احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک سال سے بیس سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں اور ان پر پانچ پانچ ہزار درہم ( 450 یورو ، 520 ڈالرز ) فی کس جرمانہ عاید کیا ہے۔عدالت نے ان تمام مدعاعلیہان کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنایا ہے۔

ایک مراکشی صحافی حمید المہدوئی کے خلاف ریاستی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے کی کارروائیوں کی مذمت نہ کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے ۔ان کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرین کے ساتھ مقدمے کی سماعت کی گئی ہے۔انھیں جمعرات کو سز ا سنائے جانے کا امکان ہے۔

عدالت کے جج نے احتجاجی مظاہرین کے خلاف کڑی سزاؤں کا فیصلہ سنا یا تو وہاں موجود ان کے عزیز واقارب اور دوست صدمے سے چیخنا چلانا شروع ہوگئے تھے۔ وکلائے صفائی نے فیصلے کو عدالتی تعصب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے موکلوں سے مشاورت کے بعد سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

ایک وکیل سواد براہمہ کا کہنا تھا کہ ’’یہ بہت کڑی سزائیں ہیں ۔ریاست عدلیہ کی آ زادی کی طرح انسانی حقوق اور ضروری آزادیوں کے احترام میں ناکام رہی ہے‘‘۔

احتجاجی تحریک کے لیڈرناصر الزفزافی نے اپنے دیگر مدعاعلیہان ساتھیوں کی طرح مقدمے کی سماعت کا آخری ایام میں بائیکاٹ کیا ہے اور انھوں نے عدالت میں اپنا حتمی بیان ریکارڈ کرانے سے بھی انکار کردیا تھا۔انھوں نے احتجاجی مظاہروں کے دوران میں نوجوانوں کو اپنی شعلہ بیانی سے گرمائے رکھا تھا۔ان کی عمر 39 سال ہے اور وہ خود بھی بے روزگار ہیں۔انھیں مئی 2017ء میں الحسیمہ میں ایک امام مسجد کو مبیّنہ طور پر تقریر سے روکنے اور ان سے مزید مظاہروں کی اپیل کے مطالبے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

مراکش کے شمالی شہر الحسیمہ میں اکتوبر 2016ء میں ایک مچھیرے کی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں اندوہ ناک موت کے بعد احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے علاقوں تک پھیل گئے تھے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے اس 31 سالہ مچھیرے کو ایک ٹرک تلے روند کر ہلاک کردیا تھا۔اس کےبعد مظاہرین نے اس کے قتل پر انصاف مہیا کرنے کے مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ الحسیمہ اور الریف کے علاقے میں زیادہ تر بربر نسل کے لوگ آباد ہیں ۔ان کے مراکش کی مرکزی حکومت سے ایک عرصے سے تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں ۔اسی علاقے میں سنہ 2011ء میں عرب بہاریہ تحریک سے متاثر ہوکر مقامی لوگوں نے کئی روز تک احتجاجی مظاہرے کیے تھے جس کے بعد مراکش کے شاہ محمد ششم نے اپنے بعض اختیار ات منتخب حکومت کے حوالے کردیے تھے۔ مئی 2017ء کے بعد اس علاقے سے 400 سے زیادہ افراد کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے اور ان کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں