’امریکا ایرانی تیل کا گھیراؤ کرکے اتحادیوں کواس کی درآمد سے روکے گا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینیر عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران سے تیل خرید کرنے والے ممالک کو نومبر کے آغاز سے تہران سے تمام درامدات بند کرنے کی تیاری کرنی چاہیے کیونکہ اس وقت امریکا ایران پر دوبارہ تمام اقتصادی پابندیاں عاید کردے گا۔

امریکی حکومت کےایک عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ہم خطے میں ایران کے گھٹیا طرز عمل کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے رہیں گے اور تہران کو تیل کی فراہمی کے میدان میں تنہا کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو تیل کی درآمدات پر کسی قسم کی رعایت نہیں دے گا۔

امریکی وزارت خارجہ کے عہدیدار نے کہا کہ امریکا کا ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد آئندہ ہفتے مشرق وسطیٰ کے دورے پر جائے گا۔ یہ وفد خلیجی اور دوسرے عرب اتحادی ممالک پر زور دے گا کہ وہ نومبر 2018ء تک ایران کو تیل کی عالمی منڈی میں تنہا کرنے کے لیے اس کی تیل کی مصنوعات کی درآمدات روک دیں۔

امریکا کی طرف سے ایرانی تیل کے گھیراؤ اور تہران پر نئی پابندیوں کے اعلانات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا کی طرف سے تہران کے خلاف عاید اقدامات کے بعد کئی عالمی کمپنیوں سے ایران میں اپنے منصوبے ترک کردیے ہیں۔ ان کمپنیوں میں ٹوٹل، میرسک، بریٹش پٹرولیم، اٹلی کی ’اینی‘ جیسی پٹرولیم کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں