ولادی میر پوتین اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 16 جولائی کو ہیلسنکی میں ملاقات ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی صدر ولادی میر پوتین کے درمیان طویل عرصے سے زیر التوا ملاقات 16 جولائی کو ہیلسنکی میں ہوگی ۔ کریملن اور وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو الگ الگ بیانات میں اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

کریملن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس ضمن میں ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے اور دونوں لیڈروں کے درمیان بات چیت میں روس اور امریکا کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورت حال اور انھیں مزید فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤ س نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دونوں لیڈر قومی سلامتی سے متعلق مختلف امور کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ماسکو میں بدھ کو صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کی تھی اور ان سے ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلی مکمل مجوزہ ملاقات کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا اور روس کے تعلقات میں سرد جنگ کے زمانے کے بعد سے پہلی مرتبہ سرد مہری پائی جارہی ہے۔اس کے بنیادی عوامل میں روس کا ریاست کریمیا کو ضم کرنا ، مشرقی یوکرین میں روس کی فوجی مداخلت ، امریکا کے صدارتی انتخابات میں مبینہ مداخلت اور شامی تنازع کے بارے میں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ گذشتہ سال بر سر اقتدار آنے کے بعد سے روسی صدر پوتین کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں ۔انھوں نے اسی ماہ کہا تھا کہ روس کو دوبارہ گروپ سات میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ دنیا کے سات بڑے ترقی یافتہ ممالک کے اس گروپ نے 2014ء میں کریمیا کو ضم کرنے پر روس کی رُکنیت معطل کردی تھی۔

صدر ٹرمپ 11 اور 12 جولائی کو برسلز میں معاہدہ شمالی اوقیانو س کی تنظیم ( نیٹو) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس کے بعد وہ برطانیہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ 13 جولائی کو برطانوی وزیر اعظم تھریز ا مے اور ملکہ ایلزبتھ دوم سے ملاقات کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں