روس اور شام نے ایران کو قربانی کا بکرا بنا رکھا ہے: ایرانی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے ایک سرکردہ رکن پارلیمان نے شام میں بشارالاسد اور روس کی قرابت کو ایران کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ولادی میر پیوتن اور بشارالاسد ’بے حیائی‘ کے ساتھ ایران کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں۔

ایران کے کاشمر شہر سے منتخب رکن پارلیمنٹ بہروز بنیادی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے شام میں بشارالاسد کے دفاع کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں مگر بعض اوقات روس اور شام ایران کی قربانیوں کو نہ صرف نظر انداز کرتے ہیں بلکہ ان کا کھلا انکار کرتے ہیں۔

مسٹر بنیادی نے شام اور روس کی باہمی قرابت کو ایران کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر بشارالاسد روس کی قرابت سے ایران کی قیمت پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شام میں ایران کے ’شہداء مزارات‘ کی اہمیت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ بعض اوقات ڈھٹائی کے ساتھ ہماری قربانیوں کا صاف انکار کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے ایرانی جنگجوؤں کے لیے ایران ’محافظین مزارات‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے اور لڑائی کے دوران مارے جانے والے جنگجوؤں اور اجرتی قاتلوں کو ’شہداء مزارات‘ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ جنگجو افغانستان، پاکستان، عراق، لبنان اور دوسرے ملکوں سے بھرتی کرنے کے بعد فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے شام کی جنگ میں جھونکے جاتے ہیں۔

بہروز بنیادی نے روس اور چین کے ساتھ تجارت کو بھی ایران کے لیے تباہ کن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور چین کے ساتھ تجارتی لین دین ایران میں کرنسی کے بحران کا سبب بنا ہے۔ درآمدات کی کثرت کے باعث ایرانی کرنسی بیرون ملک جا رہی ہے اور ہم پر چین اور روس نے اپنا سکہ مسلط کر رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایران خسارے میں اور روس اور چین جیسے ممالک فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایران میں غربت کی شرح بڑھ رہی ہے اور حکمرانوں سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ ایران کے اقتصادی، عسکری اور سیاسی محکموں کو ایسی پالیسیاں وضع کرنی چاہئیں جن کے نتیجے میں ایران کو درپیش معاشی خسارے سے نکالا جا سکے۔

بہروز بنیادی نےکہا کہ ایران میں انقلاب کے اوائل میں لوگوں کو کسی قسم کی پریشانی درپیش نہیں تھی۔ بعد میں ایرانی اعلیٰ عہدیداروں کی اولاد ملک میں کرپشن، غربت، جسم فروشی، ریاء، جھوٹ، بچوں کی ہراسانی، گھریلو تشدد، مدارس میں عصمت ریزی، انسانی اعضاء کی خرید وفروخت کے کاروبار اور دیگر کئی شرمناک اخلاقی رذائل اور برائیوں کے جنم دینے کا موجب بنی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی مظلوم عوام نے حکمرانوں کو چالیس سال کا وقت دیا اور مشکلات برداشت کیں۔ اب ان کی آواز سنی جانی چاہیے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ کی طرف سے حکومت پر تنقید ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایرانی کرنسی کی قدر چالیس سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ ملک میں معاشی استحصال کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں اور حکومت طاقت کے ذریعے عوام کے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے منع کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں