.

یمنی عوام کو مصیبت میں ڈالنے پر خامنہ ای کا محاسبہ ہونا چاہیے: پومپیو

’ایران کی وجہ سے یمنی عوام کی مشکلات طول پکڑ گئیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے یمن میں حوثی ملیشیا کی مدد نے صرف پڑوسی ملکوں پر حملوں ہی کا موقع فراہم نہیں کیا بلکہ اس کے نتیجے میں یمن میں انسانی بحران مزید گھمبیر ہوا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کی گئی ٹویٹس میں امریکی وزیرخارجہ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے محاسبے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خامنہ خلیج میں عدم استحکام اور یمنی عوام کی مصائب وآلام کی طوالت کے ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی عوام کو مصیبت میں ڈالنے میں معاونت کرنے والے ایرانی رہبر انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کا کڑا محاسبہ ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ بُدھ کے روز امریکا نے سلامتی کونسل کے 14 دیگر رکن ممالک پر ایران کے مشرق وسطیٰ میں ’گھٹیا کردار‘ پر تہران پر پابندیاں عاید کرنے پر زور دیا تھا۔

اقوام متحدہ میں امریکا کے نائب سفیر جوناتھن کوھین نے کہا کہ تھا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والے ملک کا بھرپور مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ ہمیں ایرانی پالیسی کے نتائج کے پیش نظر مربوط حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سلامتی کونسل کے دیگر چودہ رکن ممالک پر پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے ہمارا ساتھ دیں۔