.

ایرا ن میں تبدیلی آئے گی ، نظام کا دھڑن تختہ یقینی ہے: مریم رجوی

جبر وتشدد ، امتیازی سلوک اور استبداد سے پاک ایک روشن مستقبل ایرانی عوام کا منتظر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایرانی حزب اختلاف کی قومی کونسل برائے مزاحمتِ ایران کے زیر اہتمام ’’آزاد ایران‘‘ کے عنوان سے سالانہ کانفرنس ہفتے کے روز شروع ہوگئی ہے ۔کونسل کی سربراہ مریم رجوی نے فورم کے آغاز سے قبل ایک مختصر نیوز کانفرنس میں ایرانی رجیم کے احتساب اور ولایت فقیہ کے نظام کے خاتمے کے لیے عوامی مزاحمت کی حمایت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تہران کے بازار سلطانی سے شروع ہونے والے حالیہ مظاہرے ملک کے دوسرے شہروں تک بھی پھیل گئے ہیں۔آزادی کے شعلے تہران سے ایک مرتبہ پھر مشہد ، شیراز ، بندر عباس ،قشم ، کراج ، کرمان شاہ ، شہریار ، اسلام شہر ، کشن ، آراک ، اصفہان ، رام ہرمز اور بہت سے دوسرے شہروں اور قصبوں تک بلند ہوئے ہیں اور وہاں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

قومی کونسل برائے مزاحمت ایران کی منتخب صدر نے کہا کہ مزاحمت کے شعلوں کو سرد نہیں کیا جاسکتا ۔نظام کی مزاحمت مسلسل جاری رہے گی اور پھیلتی اور گہری ہوتی چلی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ’’ ایرانی رجیم کے دھڑن تختہ ہونے کی دوسری نشانی یہ ہے کہ گذشتہ چھے ماہ سے ایرانی عوام مزاحمت برپا کیے ہوئے ہیں ،حکومت کی جبر واستبداد کی کارروائیوں کے باوجود انھوں نے احتجاجی تحریک جاری رکھی ہوئی ہے۔ملّاؤں کے حراستی مراکز میں گرفتار کیے گئے افراد کی مبینہ خودکشیاں ہورہی ہیں اور عوام کو ڈرانے دھمکانے کے لیے لوگوں کو پکڑ پکڑ موت کی نیند سلایا جارہا ہے ‘‘۔

جلاوطن خاتون رہ نما کا کہنا تھا کہ جبر وتشدد کی ان تمام کارروائیوں کے باوجود ایرانی عوام رجیم کو اقتدا ر سے نکال باہر کرنے کے لیے پُرعزم ہیں اور وہ تمام طبقات پر مشتمل ایک جمہوریہ کا قیا م چاہتے ہیں جس میں مذہب اور ریاست الگ الگ ہوں اور جہاں لوگوں کی آواز سنی جائے۔

انھوں نے ایرانی عوام کے نام پیغام میں کہا کہ ’’ اب نظام کی تبدیلی پہلے سے کہیں زیادہ قریب آ لگی ہے۔جبر وتشدد ، امتیازی سلوک اور استبداد سے پاک ایک روشن مستقبل آپ کا منتظر ہے‘‘۔

مریم رجوی نے عالمی برادری سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ ایرانی عوام کی مذہبی آمریت کے خاتمے کے لیے جدوجہد اور مزاحمت کو تسلیم کرے اور رجیم کے دھڑن تختہ کے لیے ایرانیوں کی حمایت کرے تاکہ جوہری ہتھیاروں ، میزائلوں اور دہشت گرد ایرانی رجیم کے خطرات اور خطے میں اس کی مداخلت سے بچا جاسکے۔

انھوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایرانی رجیم کے احتساب کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کے خلاف مالی قدغنیں اور تیل کی پابندیاں عاید کی جائیں ۔انھوں نے پاسداران انقلاب ایران اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے وابستہ اداروں کے ساتھ ہر طرح کا کاروبار بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

پیرس میں ایرانی حزب اختلاف کی یہ سالانہ کانفرنس تین روز جاری رہے گی اور توقع ہے کہ اس میں متعدد سرکردہ علاقائی اور بین الاقوامی مقررین خطاب کریں گے اور وہ ایرانی حزب ِ اختلاف اور عوام کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کریں گے۔