.

خفیہ مقام پر روپوش حسن نصر اللہ کی حوثیوں کے لیے لڑنے کی تمنّا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے جمعے کے روز اپنے ایک ٹیلی وژن خطاب میں لبنان کی اندرونی صورت حال اور شام کی جنگ سے متعلق تمام مواقف پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ حزب اللہ ایران کی درجنوں ملیشیاؤں کے ساتھ مل کر شامی صدر بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی میں شریک ہے۔

اس موقع پر نصر اللہ نے کہا کہ اس کی تمنّا ہے کہ وہ یمن میں حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر لڑے۔ نصر اللہ نے حوثی ملیشیا کے سرغنے کے حق میں تعریفوں کے پُل باندھتے ہوئے کہا کہ "میں آپ لوگوں کے ساتھ نہ ہونے پر شرمندہ ہوں۔ کاش کہ میں آپ کے جنگجوؤں میں سے ایک جنگجو ہوتا اور آپ کے بہادر کمانڈر کے پرچم تلے لڑائی میں شریک ہوتا"۔

نصر اللہ نے یہ خطاب کسی نامعلوم اور خفیہ مقام سے ریکارڈ کرایا۔ اس کے سبب سوشل میڈیا پر مختلف افراد نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "اپنی تمنّا پوری کرنے کے حوالے سے بات کرنے سے پہلے وہ اپنے بِل سے باہر آئے"۔ تبصرہ کرنے والوں کی اکثریت نے حزب اللہ کے سربراہ کی "معصوم" سی خواہش کو مضحکہ خیز قرار دیا۔

اپنے خطاب میں نصر اللہ نے اعلان کیا کہ لبنان میں موجود شامی پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی کے امور کی نگرانی کے لیے ایک "کمیٹی" تشکیل دی گئی ہے۔ اگرچہ یہ اس معاملے سے متعلق اقوام متحدہ کے سرکاری موقف کے مخالف ہے کیوں کہ عالمی تنظیم کے نزدیک اس وقت لبنان سے شامی پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی کے لیے حالات مناسب نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 2016ء میں حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے لبنانی رکن پارلیمنٹ محمد رعد نے کہا تھا کہ اُن کے ملک میں شامی پناہ گزینوں کے کیمپ " ٹائم بم" ہیں۔ رعد کا کہنا تھا کہ تکفیری دہشت گرد ان کیمپوں میں سرائیت کر رہے ہیں۔