الحدیدہ کی بندرگاہ پر حوثیوں کے جرائم اور خلاف ورزیوں سے پانچ ملازمین کی موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کی بندر گاہ الحدیدہ کے عملہ کے خلاف ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے جرائم اور خلاف ورزیوں سے پانچ ملازمین موت کے منھ میں چلے گئے ہیں۔ان کی چیرہ دستیوں کا تازہ شکار ایک ملازم منصور سالم الحکیمی ہوئے ہیں۔

یہ بات یمن کے ٹرانسپور ٹ کے نائب وزیر ناصر شریف نے اتوار کو ایک بیان میں بتائی ہے۔انھوں نے کہا کہ باغی ملیشیا نے تین سال قبل الحدیدہ کی بندر گاہ پر قبضے کے بعد سے عملہ کے خلاف بہت سی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے ۔انھوں نے پہلے سے بھرتی شدہ تربیت یافتہ عملہ کے ارکان کو نکال کر ان کی جگہ اپنے عناصر کو بھرتی کیا ہے حالانکہ انھیں بندرگاہ پر جہازوں کو لنگرانداز کرنے یا روانہ کرنے کے کام کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔

یمن کی سرکاری خبررسا ں ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں انھوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی اس طرح کی حرکات کا واضح مقصد الحدیدہ کی بندر گاہ کو انسانی امداد ی سامان اور تجارتی اشیاء کی آمد ورفت کے بجائے اسلحے کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرنا ہے اور حوثی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد وں کی ننگی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسا کر رہے ہیں۔

یمنی نائب وزیر نے کہا کہ حوثی ملیشیا اس بندرگاہ کی آمدن کو الحدیدہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور انھیں ہلاک کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ اگر الحدیدہ کی بندر گاہ اور شہر کا کنٹرول بدستور حوثی ملیشیا کے پاس رہتا ہے تو اس سے انسانی صورت حال مزید ابتر ہوجائے گی، یمنیوں کے مصائب میں مزید اضافہ ہوگا اور حالیہ تجربات سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ حوثی متاثرہ یمنیوں تک انسانی امداد کی بہم رسانی میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں ۔اس لیے اس بندرگاہ کو جلد سے جلد حوثیوں کے پنجے سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں