یو اے ای نے الحدیدہ سے حوثیوں کےانخلا کی بات چیت کے بعد حملے روک دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات نے اتوار کو یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں وقفے کا ا علان کیا ہے تاکہ اقوام متحدہ کی امن کوششوں کو ایک موقع دیا جاسکے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ ہم الحدیدہ شہر اور بندرگاہ سے حوثیوں کے غیر مشروط انخلا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس کی کوششوں کو سراہتے ہیں‘‘ ۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے اپنی مہم میں وقفہ کیا ہے تاکہ اس آپشن کو پورا پورا موقع دیا جاسکے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ( مارٹن) ضرور کامیاب ہوں گے‘‘۔

انور قرقاش نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’عرب اتحاد کا الحدیدہ کے ہوائی اڈے پر قبضہ اور حوثی ملیشیا کی جانب سے رعایتیں دینے کے واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ حوثی ملیشیا الحدیدہ کو خالی کردے‘‘۔

انھوں نے عالمی برادری سے بھی شکوہ کیا ہے کہ اس نے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں ، زمین اور سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے ،انسانی امداد کی متاثرین تک بہم رسانی میں رکاوٹیں ڈالنے پر حوثیوں پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا ہے۔

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا پر مسلسل فوجی دباؤ سے الحدیدہ کو آزاد کرانے میں مدد ملے گی اور حوثی سنجیدہ مذاکرات پر مجبور ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں