.

ایک سال میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے منصوبہ ہے: جان بولٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے نزدیک شمالی کوریا کے کیمیائی اور حیاتیاتی پروگرام کا بڑا حصّہ ایک سال کے اندر ختم کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ کارروائی میں اس سے کہیں زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔

اتوار کے روز CBS نیٹ ورک پر نشر ہونے والے پروگرام Face the Nation میں گفتگو کرتے ہوئے بولٹن نے بتایا کہ واشنگٹن نے شمالی کوریا کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے پروگراموں کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ وضع کیا ہے جس کی مدت ایک برس ہے تاہم شرط یہ ہے کہ پیونگ یانگ اس سلسلے میں پورا تعاون کرے اور اپنے تمام ہتھیاروں کو ظاہر کرے۔

بولٹن کا کہنا تھا کہ "اگر انہوں ایسا کرنے کے حوالے سے واقعتا تزویراتی فیصلہ کر لیا اور تعاون کا اظہار کیا تو ہمارے لیے بہت تیزی سے متحرک ہونا ممکن ہو گا"۔

امریکی مشیر کے مطابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو غالبا اس تجویز کو عنقریب شمالی کوریا کے حکام کے ساتھ زیر بحث لائیں گے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ پومپیو رواں ہفتے شمالی کوریا کا دورہ کریں گے۔

دوسری جانب سابق صدر باراک اوباما کے دور میں امریکی وزارت خارجہ میں ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق سابق سینئر ترین اہل کار تھامس کنٹری مین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے پروگراموں کا بڑا حصّہ ایک برس کے اندر ختم کیا جا سکتا ہے تاہم ایک برس میں مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہے اور نہ شمالی کوریا کی جانب سے مکمل خاتمے کے فیصلے کے حوالے سے کوئی شواہد سامنے آئے ہیں۔

جوہری سائنس داں اور اسٹینفورڈ یونی ورسٹی کے پروفیسر سیگفرائڈ ہیکر نے 2010ء میں یانگ پیان میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا تفصیلی دورہ کیا تھا۔ ان کی توقع کے مطابق اس مقام کے مرکزی حصّے کے خاتمے اور کلیئرنس میں تقریبا 10 برس درکار ہوں گے۔

ادھر جنوبی کوریا کے میڈیا نے اتوار کے روز بتایا کہ فلپائن میں امریکی سفیر سونگ کِم نے شمالی کوریا کے عہدے داران کے ساتھ ملاقات کی ہے تا کہ امریکی وزیر خارجہ کے شمالی کوریا کے آئندہ دورے کے شیڈول کے حوالے سے رابطہ کاری عمل میں آ سکے۔

امریکی انٹیلی جنس اداروں کو یقینی طور پر شمالی کوریا کے پاس موجود نیوکلیئر وار ہیڈز کی تعداد معلوم نہیں ہے۔ دفاعی انٹیلی جنس نے ان کی تعداد کا اندازہ 50 کے قریب لگایا ہے۔ تاہم تمام اداروں کو یہ خیال ہے کہ پیونگ یانگ نے ان کی تعداد کو خفیہ رکھا ہوا ہے۔

گزشتہ ماہ 12 جون کو سنگاپور میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی سِمت کام کرنے آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم اس موقع پر دستخط شدہ دستاویز میں ہتھیاروں سے دست برداری کے طریقہ کار یا ممکنہ وقت کے بارے میں تفصیلات نہیں تھیں۔

دوسری جانب امریکی چینل CBS نیوز نے امریکی عہدے داران کے حوالے سے جمعے کے روز بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں یہ سمجھتی ہیں کہ شمالی کوریا نے گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی خفیہ مقامات پر ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مطلوب ایندھن کی پیداوار میں اضافہ کر دیا اور وہ امریکا کے ساتھ جوہری بات چیت میں امتیازی رعائتوں کے حصول کی کوشش کے دوران اس امر کو چُھپا رہا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے امریکی انٹیلی جنس کی اُن رپورٹوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور پر خلاصی حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ بولٹن کا کہنا تھا کہ "ہم جانتے ہیں کہ خطرات کیا ہیں ... وہ مذاکرات سے فائدہ اٹھائیں گے تا کہ وقت حاصل کر کے اپنے جوہری، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں بالخصوص بیلسٹک میزائل پروگراموں کو جاری رکھ سکیں۔ ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ شمالی کوریا نے ماضی میں کیا کِیا ہے"۔