.

سعودی عرب تشدد کی تمام شکلوں کی مذمت کرتا ہے: شہزادہ محمد بن نواف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں متعیّن سعودی سفیر شہزادہ محمد بن نواف آل سعود نے کہا ہے کہ ان کا ملک تشدد کی تمام شکلوں کی مذمت کرتا ہے اور وہ عدالتی فریم ورک کے تحت اظہار رائے کی آزادی کے حق کی حمایت کرتا ہے۔

انھوں نے برطانوی اخبار گارجین میں سعودی عرب سے متعلق شائع شدہ ایک رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے اخبار کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ ’’کسی بھی شخص کو قصور وار قرار دیے بغیر سزا دی جاتی ہے اور نہ قید کیا جاتا ہے۔ پبلک پراسیکیوشن تمام جیلوں اور حراستی مراکز کا معائنہ کرتا ہے اور پھر اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ وہاں تمام قیدیوں کو بین الاقوامی قانون کے مطابق رکھا گیا ہے‘‘۔

شہزادہ نواف لکھتے ہیں:’’ ہم قیدیوں کی جسمانی اور ذہنی فلاح وبہبود کے لیے ضابطہ فوجداری کی پاسدارای کرتے ہیں۔تمام زیر حراست افراد کے عزت ووقار کا خیال رکھا جاتا ہے ۔انھیں ان کی حراست کی وجوہ سے آگاہ کیا جاتا ہے اور انھیں اپنے خاندانوں کو اطلاع دینے کا بھی حق حاصل ہے۔سعودی انسانی حقوق کمیشن کے نمائندے پولیس تھانوں اور جیلوں میں قیدیوں سے سلوک کی نگرانی کے لیے موجود ہوتے ہیں۔وہ شکایات کو ریکارڈ کرتے ہیں اور اپنی رپورٹس براہ راست خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو پیش کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ ’’ سعودی عرب نے اقوام متحدہ کے مشن سے تعاون کیا ہے ،اس کے نمائندے کو جیلوں تک رسائی دی گئی تھی اور جتنی تعداد میں انھوں نے قیدیوں سے ملوانے کا کہا تھا تو انھیں ان سے ملوایا گیا تھا۔الّا یہ کہ جن حکام کو بروقت ان کی درخواست موصول نہیں ہوسکی تھی،وہ قیدیوں سے ملاقات کرانے سے قاصر رہے یا دہشت گردی کے الزامات میں قید افراد سے نہیں ملاقات کرائی جاسکی تھی یا پھر بعض قیدی پہلے ہی جیلوں سے رہا ہوچکے تھے‘‘۔