پیرس میں دہشت گردی کی سازش ناکام ، جرمنی میں ایرانی سفارت کار گرفتار

بیلجیئم میں ایرانی نژاد جوڑے سے انتہائی خطرناک دھماکا خیز مواد برآمد ، فرانس میں بھی گرفتاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بیلجیئم کے فیڈرل پراسیکیوٹر نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایرانی حزبِ اختلاف کی کانفرنس کے دوران دہشت گردی کے حملے کی سازش کے الزام میں تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور اس کی اطلاع پر جرمنی میں ایک ایرانی سفارت کار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ذرائع نے اس کی شناخت اسداللہ اسدی کے نام سے کی ہے۔

بیلجیئم کی اسٹیٹ سکیورٹی ایجنسی نے پیرس میں قومی کونسل برائے مزاحمتِ ایران کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر ہفتے کے روز دہشت گردی کے اس حملے کی سازش کا سراغ لگایا تھا۔

بیلجیئن سکیورٹی حکام نے ملک کےشمالی علاقے آنٹورپ سے ایک مشتبہ ایرانی نژاد بیلجیئن جوڑے کو گرفتار کر لیا ہے۔اس ایرانی مرد انیس ایس (1980ء) اور نسیمہ این ( 1984ء) پر ہفتے کے روز قومی کونسل برائے مزاحمت ِ ایران کی سالانہ کانفرنس کے دوران انتہا پسند بم حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا شُبہ ہے۔

پراسیکیوٹرز نے اس جوڑے کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ایرانی نژاد ہیں او ر ان کے قبضے سے پانچ سو گرام ( قریباً ایک پاؤنڈ) وزنی انتہائی دھماکا خیز مواد ٹی اے ٹی پی اور ایک ڈیٹونیٹر ڈیوائس برآمد ہوئی تھی۔ایک اطلاع کے مطابق انھیں پولیس کے ایک ایلیٹ اسکواڈ نے برسلز کے ایک اقامتی علاقے میں کہیں جاتے ہوئے روکا تھا اور دھماکا خیز مواد برآمد ہونے پر گرفتار کر لیا تھا۔

بیلجیئن پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اس جوڑے کے ایک مبینہ ساتھی کو فرانس میں گرفتار کیا گیا ہے اور وہاں دو کو پولیس نے ابتدائی پوچھ تاچھ کے بعد رہا کردیا ہے۔

بیان کے مطابق آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایرانی سفارت خانے میں تعینات ایک سفارت کار کو جرمنی میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔یہ سفارت کار مذکورہ ایرانی جوڑے سے رابطے میں رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں