.

پیرس : ولایت فقیہ کے سقوط کی دعوت کے ساتھ ایرانی اپوزیشن کی کانفرنس اختتام پذیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تین روزہ "ایرانی مزاحمت کانفرنس" ختم ہو گئی۔ کانفرنس کے تیسرے اور آخری روز عرب اور ایرانی سیاسی شخصیات اور غیر سرکاری تنظیموں نے ایرانی پاسداران انقلاب کے خطرے پر روشنی ڈالی جو شام، عراق، یمن، جنوبی لبنان اور بحرین میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کے لیے اپنی ملیشیاؤں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

بحرین کے رکن پارلیمنٹ جمال بوحسن نے تمام ایرانی اپوزیشن قوتوں اور تہران کے نظام کے خلاف عرب قوتوں پر مشتمل ایک محاذ کی تشکیل کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک پُر امن محاذ تشکیل دیا جائے جو ایران پر دباؤ ڈالنے کے واسطے عالمی برادری سے بات چیت کرے اور عالمی کمپنیوں کی اس امر پر حوصلہ افزائی کرے کہ وہ ایرانی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے نہ کریں۔

ادھر ایرانی مزاحمت کونسل کی امور خارجہ کمیٹی کے سربراہ محمد محدثین نے باور کرایا کہ "جنوبی ایران میں عرب شہریوں کے احتجاج اور عراق، شام اور یمن میں بے قصور افراد کے قتل نے مزاحمتی گروپوں، عرب تنظیموں اور خطّے کے عوام کو یکجا کر دیا تا کہ وہ ولایت فقیہ کے نظام کا مقابلہ کریں"۔

کانفرنس میں شریک انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے ایرانی شہروں میں مزاحمتی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن اور خطّے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی مداخلتوں کی بھرپور مذمت کی۔ تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ ایران میں جابرانہ نظام سے چھٹکارے کے واسطے ایرانی بچاؤ محاذ کی سپورٹ کی جائے۔

دوسری جانب عراق کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کے سابق سربراہ الطاہر بو مدرہ نے کہا کہ ایران میں ریاست کا انتظام چلانے میں ولایت فقیہ کے نظام کا ناکام ہو جانا ثابت ہو چکا ہے اور عوام ایک محاذ بنا کر اس کے خلاف متحرک ہیں۔

پیرس میں ایرانی مزاحمت کانفرنس میں تین مطالبات سامنے آئے ہیں۔ تمام ایرانی اپوزیشن قوتوں پر مشتمل ایک متحدہ داخلی محاذ تشکیل دینا تا کہ تہران کے نظام کا سقوط عمل میں آ سکے، خطّے سے پاسداران انقلاب کی فورسز کو نکالنا اور ایک ایسے متبادل جمہوری نظام کے لیے کام کرنا جو غیر جوہری اور امن پسند ایران کو جنم دے سکے۔