.

گیارہ سالہ بچی کی 41 سالہ انڈونیشی مرد سے شادی، عوام سراپا احتجاج بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رقبے کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا میں اکتالیس سالہ شخص کی گیارہ سالہ تھائی بچی کے ساتھ مبینہ شادی کی خبر نے عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گیارہ سالہ بچی کی پکی عمر کے شخص سے شادی کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تنقید کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور شادی کو ’بچپن پر خون خوار بھیڑیے کا حملہ‘ قرار دیا۔

خیال رہے کہ انڈونیشیا کے سرکاری قانون میں مذہبی عدالت کی اجازت سے دس سال سے کم عمر کے افراد کی شادی کی اجازت ہے۔

تاہم دوسری عائلی اور امور نسواں کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ سرکاری طور پر ایسی کی شادی کی رجسٹریشن کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ میڈیا میں آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ تھائی لینڈ کی جنوبی سرحد پر گذشتہ ماہ پیش آیا تھا۔

اخبار ’سنڈے اسٹار‘ نے وزیراعظم عزیزۃ وان اسماعیل کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ سرکاری حکام نے شادی والے گھر کا دورہ کیا اور بچی کی والدہ سے بھی ملاقات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل ہم اس حوالے سے مزید اطلاعات کا انتظار کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق گیارہ سالہ بچی کی شادی ایک 41 سالہ شخص کے ساتھ کی گئی ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس نے عدالت کی اجازت کے بغیر شادی کی ہے تو کم سن سے شادی پر اس شخص کو چھ ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس خبر نے کہرام برپا کر رکھا ہے۔ سماجی کارکنوں نے کم سنی کی شادی سے متعلق سرکاری قانون میں ترمیم کرنے اور نو عمر افراد کی شادی کی اجازت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کے دفاع کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا میں سالانہ 16 ہزار بچیوں کی پندرہ سال سے کم عمر میں شادی کر دی جاتی ہے۔

سماجی کارکن مسٹر عزمی نے گیارہ سالہ بچی کی شادی کو ’بچی کو خون خوار بھیڑیے‘ کے آگے ڈالنے کی کوشش سے تعبیرکیا ہے۔ کم سن بچی کی شادی پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسیف‘ نے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔