.

’’روہنگیا مہاجرین سے قتل اور عصمت ریزی کی ناقابلِ تصور کہانیاں سنیں ‘‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں کے دورے کے بعد گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے کہا ہے کہ انھوں نے بنگلہ دیش میں مہاجر کیمپوں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں سے میانمار میں ہلاکتو ں اور عصمت ریزی کے واقعات کی ناقابل تصور کہانیاں سنی ہیں۔

انتونیو گوٹیریس نے سوموار کو بنگلہ دیش کے سرحدی ضلع کاکس بازار میں میانمار سے سکیورٹی فورسز اور بدھ متوں کے حملوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں کا دورہ کیا ہے۔اس کے بعد ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’روہنگیا مسلمان صرف انصاف اور گھروں کو محفوظ واپسی چاہتے ہیں‘‘۔

انھو ں نے بعد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ میانمار میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بعد نقل مکانی کرکے آنے والے روہنگیا مسلمان خوف ناک صورت حال میں رہ رہے ہیں۔انھوں نے ان مہاجرین سے فراخدلانہ سلوک پر بنگلہ دیش کی حکومت کو سراہا اور کہا کہ ’’دل پسیجے بغیر ا ن کیمپوں کا دورہ ناممکن ہے۔یہ انسانی حقوق کی منظم انداز میں خلاف ورزیوں کی سب سے خوف ناک کہانیوں میں سے ایک ہے‘‘۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ عالمی برادری روہنگیا مسلمانوں سے یک جہتی کا تو اظہار کررہی ہے لیکن ان کی مالی مشکلات اور مصائب کے خاتمے کے لیے امداد کے وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہنا رہی ہے۔انھوں نے موسم برسات میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان سے مہاجرین کے کیمپ متاثر ہوسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی مزید امداد کا وعدہ

انتونیو گوٹریس نے اتوار کو بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ سے ملاقات کی تھی اور انھیں اقوام متحدہ کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے لیے مسلسل امداد مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

عالمی بنک گروپ کے صدر جیم یانگ کِم اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلپو گرینڈی نے بھی روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کیا ہے۔اس موقع پر جیم یانگ کَم نے کہا کہ ’’ہم روہنگیا سے اپنی آنکھیں نہیں موند سکتے ،ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور آج ہم سب روہنگیا ہیں‘‘۔

انھوں نے روہنگیا مسلمانوں کے لیے بنگلہ دیشی حکومت کی امداد جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ان کے دورے سے قبل عالمی بنک نے بنگلہ دیش کو 48 کروڑ ڈالرز کی امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ رقم روہنگیا مہاجرین کی صحت عامہ ، تعلیم ، پانی ، حفظان ِ صحت اور سماجی تحفظ کی ضروریات پر صرف کی جائے گی۔

سات لاکھ روہنگیا مہاجرین

میانمار میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسندوں کی سفاکانہ تشدد آمیز کارروائیوں کے نتیجے میں گذشتہ سال اگست سے قریباً سات لاکھ روہنگیا مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں آچکے ہیں جہاں وہ اس وقت گنجان آباد مہاجر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

اگست 2017ء سے پہلے ہی قریباً تین لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کے جنوب مشرق میں واقع کیمپوں میں رہ رہے تھے اور اب ان تمام مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز ہو چکی ہے۔ان میں کی اکثریت انتہا ئی نامساعد حالات میں مختلف عالمی اداروں کی جانب سے ملنے والی امدادی خوراک پرگزارہ کررہی ہے۔

میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان ان لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کی مہاجر کیمپوں سے وطن واپسی کے لیے گذشتہ سال نومبر میں ایک سمجھوتا طے پا یا تھا۔اس کے تحت روہنگیا مسلمانوں کی میانمار میں واپسی شروع ہونے کے بعد تمام عمل دوسال میں مکمل ہونا تھا لیکن ابھی تک اس سمجھوتے پر عمل درآمد کا آغاز ہی نہیں ہوا ہے۔

اس سمجھوتے کا اطلاق اکتوبر 2016ء میں میانمار کی ریاست راکھین ( اراکان) میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف برمی سکیورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسندوں کے حملوں کے بعد دو مراحل میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد پر ہوگا۔اس کا اطلاق ان روہنگیا مہاجرین پر نہیں ہوگا جو اس تاریخ سے پہلے سے بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق ان روہنگیا مہا جرین کی تعداد دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

تاہ م بنگلہ دیش میں کیمپوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں کسمپرسی کی حالت میں رہنے کے باوجود بہت سے مہاجرین میانمار میں اپنی آبائی ریاست راکھین کی جانب لوٹنے کو تیار نہیں کیونکہ انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ واپسی کی صورت میں انھیں ایک مرتبہ پھر برمی سکیورٹی فورسز اور بدھ مت انتہا پسندوں کے مظالم اور تشدد آمیز کارروائیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ان میں سے بیشتر کے گھر بار جل چکے ہیں یا منہدم کردیے گئے تھے،بلوائیوں نے ان کی املاک لوٹ لی تھیں اور ان کے کاروبار تباہ کردیے تھے۔اس لیے اب میانمار واپسی کی صورت میں ان کی بالکل نئے سرے سے آباد کاری ہوگی۔