.

درعا میں جنگ بندی پربات چیت کے لیے اردنی وزیرخارجہ کا دورہ روس

شہریوں نے روسی فوج اور عسکری گروپ میں معاہدہ بد عہدی قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی شام کے شہردرعا اور اس کے اطراف میں جاری لڑائی رکوانے اور فریقین میں جنگ بندی کی کوششوں کوآگے بڑھانے کے لیے اردنی وزیرخارجہ ایمن الصفدی آج منگل کو روس کے دورے پر ماسکو پہنچیں گے۔ الصفدی اپنے روسی ہم منصب سیر گئی لافروف سےدرعا میں جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کریں گے۔

خیال رہے کہ درعا کے 10 اہم مقامات میں شامی اپوزیشن اور سرکاری فوج کے درمیان جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ادھر بصری الشام شہر کے مقامی شہریوں نے اپوزیشن کے ایک گروپ ’شباب السنہ‘ اوراس کے سربراہ پر خیانت کا الزام عاید کیا ہے۔ بصری الشام کے شہریوں نے اپوزیشن کے مسلح گروپ پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے انفرادی طور پر اور غیر مشروط جنگ بندی کی تجویز قبول کی ہے جو کھلم کھلا بد عہدی ہے۔

خیال رہے کہ شامی اپوزیشن کے الشباب السنہ نامی عسکری گروپ نے روسی فوج کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بصری الشام کا کنٹرول غیر مشروط طورپر بشارالاسد کی فوج کے حوالے کرنا ہے۔ اس شہر پرعملا اسی گروپ کا کنٹرول قائم ہے۔ اپوزیشن گروپ نے مقامی شہری آبادی کو تحفظ دینے کے لیے کوئی قدم اٹھانے سے قبل ہی اپنا بھاری توپ خانہ بھی اسد رجیم کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بصری الشام کے باشندوں نے شباب السنہ کے سربراہ احمد العودہ اور روسی وفد کے درمیان معاہدے کو حیران کو قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے ہماری شرائط تسلیم کرنے کے بجائے العودہ پراپنی شرائط مسلط کیں اور جنگجو گروپ نے کمانڈر نے روسی شرائط قبول کرکے بدعہدی کی ہے۔