.

سعودی عرب وقتِ ضرورت تیل کی اضافی پیداواری صلاحیت استعمال کرنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں توازن اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی تیل کی اضافی پیداواری صلاحیت کو بروئے کار لانے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں منگل کو وزارتی کونسل کا اجلاس سلامہ محل جدہ میں ہوا ۔اجلاس میں تیل کی عالمی مارکیٹ کی مجموعی صورت حال اور تیل کی رسد اور طلب میں فرق پر غور کیا گیا ۔کابینہ نے اس بات کی توثیق کی کہ سعودی عرب مستقبل میں تیل کی رسد اور طلب میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے وقتِ ضرورت اپنی تیل کی اضافی پیداوار کو استعمال میں لانے کو تیار ہے مگر وہ یہ فیصلہ تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد کرے گا۔

شاہ سلمان نے کابینہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر اپنی حالیہ گفتگو کے بارے میں بتایا۔اس میں دونوں لیڈروں نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں استحکام اور عالمی معیشت کی نمو کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کابینہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ مملکت کی پیٹرولیم پالیسی کا ایک اہم مقصد ہمیشہ عالمی مارکیٹ میں توازن اور استحکام کا حصول رہا ہے اور اس نے تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک اور بڑے صارف ممالک سے ہمیشہ مشاورت کی ہے۔کابینہ نے عالمی مارکیٹ میں طلب کے مطابق تیل کی رسد برقرار رکھنے کی ضرورت پر زوردیا تاکہ مشترکہ مفادات حاصل کیے جاسکیں اور عالمی معیشت کی نمو کا عمل جاری رہے۔

سعودی کابینہ نے تیل پیدا کرنے والے اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کے درمیان تعمیری تعاون کو سراہا جس کے نتیجے میں مارکیٹ کی موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے پچیس ممالک کے درمیان تیل کی رسد بڑھانے کاسمجھوتا طے پایا تھا ۔