.

فرانس میں ایرانی حزبِ اختلاف کے اجتماع پر بم حملے کی ناکام سازش کی نئی تفصیل منکشف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گذشتہ ہفتے کے روز ایرانی حزب ِاختلاف کے اجتماع پر بم حملے کی ناکام سازش کے الزام میں بیلجیئم میں گرفتار کیے گئے ایرانی جوڑے کے بارے میں نئی تفصیل سامنے آئی ہے۔جلاوطن ایرانی حزب ِ اختلاف کی قومی کونسل برائے مزاحمتِ ایران (این سی آر آئی) نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی ایرانی رجیم سے وابستہ ہیں۔

این سی آر آئی کے مطابق بیلجیئن سکیورٹی حکام نے ملک کےشمالی شہر آنٹورپ سے اڑتیس سالہ عامر سعدونی اور اس کی چونتیس سالہ بیوی نسیم نعمنی کو ایک مرسڈیز بینز پر سفر کے دوران گرفتار کیا تھا۔ان دونوں پر پیرس میں قومی کونسل برائے مزاحمت ِ ایران کی سالانہ کانفرنس کے دوران انتہا پسند بم حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا الزام ہے اور یہ دونوں ایرانی نژاد بیلجیئن شہری ہیں۔

کونسل نے بیلجیئن سکیورٹی ایجنسی اور حکام کے مشترکہ بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ جوڑا خود کو ایرانی حزب ِاختلاف کی مجاہدین خلق تنظیم کا حامی ظاہر کرتا رہا تھا۔ ان کے قبضے سے پانچ سو گرام ( قریباً ایک پاؤنڈ) وزنی انتہائی دھماکا خیز مواد ٹی اے ٹی پی اور ایک ڈیٹونیٹر ڈیوائس برآمد ہوئی تھی۔یہ ڈیوائس اس عورت نے اپنے میک اپ بیگ میں چھپا رکھی تھی۔

اس بم حملے کی سازش میں ملوث ایک اور شخص کو فرانس میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس دہشت گرد جوڑے کے رابطہ کار ایک ایرانی سفارت کار کو بیلجیئم کی اطلاع پر جرمنی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سفارت کار کی شناخت اسداللہ اسدی کے نام سے کی گئی ہے۔اس کی عمر 47 سال ہے اور وہ 2014ء سے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایرانی سفارت خانے میں ایرانی رجیم کے انٹیلی جنس اسٹیشن کا سربراہ چلا آ رہا تھا۔کونسل کے مطابق ’’اسدی نے ایرانی نژاد بیلجیئن جوڑے کو 30 جون کو پیرس میں ایرانی حزب اختلاف کے اجتماع پر دہشت گردی کے حملے کا حکم دیا تھا‘‘۔

دہشت گردی کی اس ناکام سازش کے ردعمل میں کونسل نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’وہ ملّائیت کےنظام سے وابستہ سفارت خانوں، ایجنسیوں،دہشت گردی اور جاسوسی کے مراکز کو بند کردیں اور ایرانی سفارت کاروں کو بے دخل کردیں ‘‘۔

واضح رہے کہ بیلجیئم کی اسٹیٹ سکیورٹی ایجنسی نے سب سے پہلے پیرس میں قومی کونسل برائے مزاحمتِ ایران کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر دہشت گردی کی اس سازش کا سراغ لگایا تھا۔ بیلجیئم کے فیڈرل پراسیکیوٹر اب اس سازش کی تحقیقات کررہے ہیں۔جلاوطن ایرانی حزب اختلاف کی ’’آزاد ایران‘‘ کے عنوان سے اس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قانونی مشیر روڈی جولیانی اور متعدد عرب اور یورپی ممالک کے وزراء نے بھی شرکت کی تھی۔