.

پناہ گزینوں کی محفوظ واپسی کے لیے میانمار پردباؤ ڈالا جائے:گوتریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوتریس نے گذشتہ برس وحشیانہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں میانمار سے ھجرت کرنے والے مفلوک الحال مسلمان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے میانمار کی حکومت پر دباؤ ڈالنےپر زور دیا ہے۔

ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ میمانمار کی حکومت پر عالمی برادری دباؤ ڈالے تاکہ وہاں کی حکومت روہنگیا نسل کے لاکھوں مہاجرین کی واپسی کو پرامن اور محفوظ بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ اور میانمار کی حکومت کے درمیان مئی میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمان مہاجرین کی واپسی کویقینی بنانے اورانہیں اپنی مرضی سے دوبارہ برما واپس آنے میں مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ اور میانمار کے درمیان مفاہمتی معاہدہ روہنگیا نسل کے مسلمانوں کی مرحلہ وار میانمار کا شہری تسلیم کرنے کی طرف اہم پیش رفت قرار دی جاتی ہے تاہم اس میں عملا کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل نے ان خیالات کا اظہار بنگلہ دیش کے جنوب مغربی ساحلی علاقے میں قائم الخیزران پناہ گزین کیمپ کے دورے کے دوران کیا۔

’یو این‘ سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ میانمار کی حکومت نے اپنے سخت گیر موقف میں کافی لچک دکھائی ہے اور اب وہاں کی حکومت کا اصل امتحان ہے کہ آیا وہ ان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے کس حد تک موثر حکمت عملی وضع کرتی ہے۔

خیال رہے کہ میانمار کی فوج اور پولیس نے ایک سال قبل روہنگیا نسل کے مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ مسلمان شہید کردیے گئے تھے۔ وہاں کے سات لاکھ مسلمان پناہ گزین سمندر کے راستے بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔