دبئی : بانی ابراج گروپ کے خلاف چیک باؤنس مقدمے کی عدالت سے باہر تصفیے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دبئی میں نجی کاروباری گروپ ابراج کے پاکستانی نژاد بانی عارف نقوی کے وکیل حبیب الملّا نے کہا ہے کہ وہ ان کے موکل کے خلاف کروڑوں درہم کا چیک باؤنس ہونے کے مقدمے کی عدالت سے باہر تصفیے کے لیے کوشاں ہیں۔ متعلقہ فریقوں کے درمیان رات مفاہمت کی ایک یادداشت طے پا گئی تھی اور اب اس کو احاطہ تحریر میں لایا جائے گا۔

اس کیس کے دوسرے فریق متحدہ عرب امارات کی کاروباری شخصیت حمید جعفر کے وکیل اعصام التمیمی نے بھی چیک کی رقم کے تصفیے کے لیے بات چیت کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

قبل ازیں شارجہ کی ایک عدالت نے جمعرات کو عارف نقوی اور ابراج گروپ کے ایک اور ایگزیکٹو کے خلاف مناسب رقم کی بنک کھاتےمیں عدم موجودگی کے باوجود چیک جاری کرنے کے مقدمے کی مزید سماعت گیارہ جولائی تک ملتوی کردی ہے۔

استغاثہ کی دستاویز کے مطابق عارف نقوی اور کمپنی کے ایک اور عہدے دار نے ابراج گروپ ہی کے ایک اور بانی حصص دار حمید جعفر کو 17 کروڑ 71 لاکھ درہم ( 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز) کا چیک جاری کیا تھا مگر یہ کیش نہیں ہوا تھا۔حمید جعفر کے وکیل خالد البنی نے کہا ہے کہ شارجہ کی عدالت نے اس کیس کی سماعت 11 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔عدالت میں عارف نقوی کے وکیل پیش نہیں ہوئے تھے۔

متحدہ عرب امارات کے پبلک پراسیکیوٹر نے چیک باؤنس ہونے کے بعد 57 سالہ عارف نقوی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےتھے ۔وہ اس وقت ملک سے باہر ہیں۔ان پر ابراج گروپ کے فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ انھوں نے یہ گروپ 2002ء میں دبئی میں قائم کیا تھا اور اس کے زیر انتظام 14 ارب ڈالرز کے مختلف اثاثے تھے۔

ابراج گروپ کے مین آئلینڈز میں رجسٹرڈ ہے ۔اس کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے الزامات منظر عام پر آنےکے بعد اس کے معاملات ایک عدالت نے اپنی نگرانی میں لے لیے تھے اور کے مین آئلینڈز کی اس عدالت نے اس گروپ کی ری سٹرکچرنگ کے لیے لیکویڈیٹرز کا تقرر کیا تھا۔

ابراج کے زیر انتظام ایک ارب ڈالرز کے صحت عامہ ایک فنڈ میں سرمایہ کاری کرنے والے چار اداروں میں سے دو بل اور میلنڈا گیٹس اور عالمی بنک نے رقوم کے غلط استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے بعد سرمایہ کاروں نے اپنے فنڈز کی واپسی کا مطالبہ کردیا تھا۔

ابراج گروپ اب کسی غلط کاری کی تردید کررہا ہے اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے پاس محفوظ سرمایہ کاروں کو رقوم کی واپسی کے لیے تو رقوم ہیں لیکن غیر محفوظ سرمایہ کاروں کے لیے نہیں ہیں ۔ابراج الشرق الاوسط اور شمالی افریقا کی ایک بڑی پرائیویٹ فرم ہے۔اس نے خود ہی کے مین آئلینڈ میں عبوری لیکویڈیشن کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں