قطر نے امریکیوں کو لبھانے میں بے مقصد کروڑوں ڈالرز اڑا دیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

قطر نے گذشتہ ایک سال کے دوران میں امریکی ایوان اقتدار اور کانگریس میں اپنے ہمدرد پیدا کرنے کے لیے کروڑوں اڑا دیے ہیں لیکن اس کے ہاتھ کچھ نہیں آیا اور وہ دہشت گردی مخالف چار ممالک سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے خلاف امریکا کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ گذشتہ ہفتے واشنگٹن کے ایک پوش علاقے میں قطری وزیر خارجہ کے اعزاز میں ایک پُر تکلف عشائیہ دیا گیا لیکن اس میں کانگریس اور امریکی انتظامیہ کے چند ایک ارکان ہی شریک ہوئے تھے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق قطر اس طرح کی تقریبات منعقد کرکے یا اہم امریکی شخصیات کو اپنے ہاں مدعو کرکے انھیں یہ باور کرانے کی کوشش کررہا ہے کہ مذکورہ چاروں ممالک کا بائیکاٹ ایک غلط اقدام ہے اور انھیں اس فیصلے پر نظرثانی پر مجبور کیا جائے ۔

لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں یا دوسرے عہدے دار ، وہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں اور انھوں نے گذشتہ سال جون میں قطر کے بائیکاٹ کے وقت جو مؤقف اختیار کیا تھا، وہ اسی پر قائم ہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹس میں قطر کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کررہا ہے ۔اس لیے وہ اس سے دستبردار ہوجائے۔

رائیٹرز نے امریکا میں قطر کی وکالت کرنے اور اس کی حمایت میں کام کرنے والی شخصیت جوئے الہام کے حوالے سے کہا ہے کہ جب دوحہ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جارہاتھا تو اس وقت کیپٹول ہِل میں قطر کی کوئی موجودگی نہیں تھی۔قطر نے الہام کو ان کے مشاورتی کام کے لیے ساڑھے چودھ لاکھ ڈالرز ادا کیے ہیں لیکن ان کے کام کے بھی کوئی ثمرات نظر نہیں آرہے ہیں۔

رائیٹرز نے اپنی رپورٹ میں قطر کے لیے لابئیسٹ کے طور پر کام کرنے والے متعدد امریکیوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ دوحہ حکومت نے گذشتہ 18 ماہ کے دوران میں دو کروڑ چالیس ڈالرز لابی کی مد میں صرف کیے ہیں۔اس نے صدر ٹرمپ کی قریبی بعض شخصیات کی خدمات حاصل کرنے کی بھی کوشش کی تھی اور امریکا میں سرمایہ کاری کی شکل میں اربوں ڈالرز صرف کرنے کے وعدے کیے تھے۔

مثال کے طور پر نیویارک کے سابق مئیر روڈی جولیانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک تحقیقات میں قطر کے لیے کام کیا تھا اور اپریل میں صدر ٹرمپ کا ذاتی وکیل بننے سے قبل دوحہ کا سفر کیا تھا۔

جولیانی نے رائیٹرز کو بتایا کہ انھوں نے ٹرمپ سے اپنے قطر میں کام کے بارےمیں کوئی گفتگو نہیں کی تھی جبکہ امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چئیرمین ایڈ رائیس نے ’’قطر دہشت گردی کا مددگار‘‘ کے عنوان سے ایک بِل متعارف کرادیا تھا۔ قطر نے اس بل کو رکوانے کے لیے ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال ریان کے دفتر سے سلسلۂ جنبانی شروع کیا تھا۔تاہم اس بل پر ابھی بحث ومباحثہ جاری ہے۔

ری پبلکن پارٹی کے لیے رقوم جمع کرنے والے ایلیٹ برائیڈی کا کہنا ہے کہ ’’قطریوں نے اپنے تمام لابئیسٹوں اور ہمدردوں کے ذریعے اس بل کو کانگریس سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس معاملے کا ابھی حتمی باب لکھا جانا ہے‘‘۔ مسٹر ایلیٹ نے خود بھی اپنی ای میلز ہیک ہونے پر قطر کے خلاف مقدمہ دائر کررکھا ہے۔

قطر نے امریکی عہدے داروں کے علاوہ صہیونیوں کی تنظیموں اور ان کی سرکردہ شخصیات کی ہمدردیاں اور حمایت حاصل کرنے میں بھی اپنے مالی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ان میں نمایاں نام امریکا کی صہیونی تنظیم کے سربراہ مارٹن کلین ہیں، وہ قطر ائیر ویز کی فرسٹ کلاس میں سفر کرکے دوحہ پہنچے تھے ۔انھیں پنج ستارہ شیرٹن گرینڈ دوحہ ریزارٹ میں ٹھہرایا گیا تھا۔ان سے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کوئی دوگھنٹے تک ملاقات کی تھی لیکن وہ بے سود رہی تھی کیونکہ مسٹر کلین نے قطر کے خلاف تنقید کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔

رپورٹ کہتی ہے کہ امریکا خلیج تنازع کے دونوں فریق ممالک کا قریبی اتحادی ہے اور اس نے ان کے درمیان ثالثی کرنے کی کوشش کی ہے مگر وہ ناکام رہا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس تنازع کو حل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس سے ایران کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

قطر خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے چھے رکن ممالک میں واحد ملک ہے جس نے ایران کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات استوار کررکھے ہیں جبکہ دوسرے خلیجی ممالک کا موقف ہے کہ ایران ان کے داخلی امور میں مداخلت کررہا ہے اور انھوں نے قطر سے منجملہ دیگر مطالبات کے ایک یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران سے اپنے تعلقات توڑ لے اور دوسرے ممالک میں مداخلت سے باز آجائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں