جواد ظریف ایرانی نظام کے جرائم چُھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں : خالد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا ہے کہ جب بھی ایرانی نظام کی دہشت گرد سرگرمیوں کا انکشاف ہوتا ہے تو تہران حسب عادت اپنے بے قصور ہونے کا دعوی کرتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے بیان پر جواب دیتے ہوئے جمعرات کے روز اپنی ٹوئیٹ میں شہزادہ خالد نے کہا کہ "ہمیں چاہیے کہ خطّے اور دنیا بھر میں دہشت گردی اور انارکی کو سپورٹ کرنے کے حوالے سے اس نظام کی طویل تاریخ کو نہ بُھولیں"۔

سعودی سفیر نے باور کرایا کہ "آسٹریا میں جو کچھ ہوا وہ ایرانی جرائم کے طویل سلسلے کا حصّہ ہے۔ جواد ظریف محض ایک ماسک ہے جو ایرانی نظام کے جرائم کو چُھپانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے فرانس میں بم حملے کی منصوبہ بندی کے شُبہے میں آسٹریا میں بیلجیئم کے حکام کے ہاتھوں ایک سفارت کار کی گرفتاری کو "جعلی منصوبہ" قرار دیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ "ایران کسی بھی جگہ تشدد اور دہشت گردی کی تمام صورتوں کی قطعی مذمت کرتا ہے۔ ایران تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے تا کہ ایک جعلی اور بد نیتی پر مبنی منصوبندی کو بے نقاب کیا جا سکے"۔

اس سے قبل بیلجیم کی استغاثہ نے ایک دہشت گرد حملہ ناکام بنا دینے کا اعلان کیا تھا۔ منصوبہ بندی کے مطابق پیرس میں 30 جون کو ایرانی حزب اختلاف "قومی کونسل برائے ایرانی مزاحمت" تنظیم کی کانفرنس کو نشانہ بنایا جانا تھا۔

بیلجیم کے استغاثہ کے مطابق حملے کی کارروائی کا ناکام بنائے جانے کے دوران برسلز میں بیلجین شہریوں اور آسٹریا میں ایک ایرانی سفارت کار کو حراست میں لیا گیا جب کہ فرانس میں بھی بعض افراد کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔

بیلجیم کے حکام کے مطابق ایرانی سفارت کار کی پیدائش کا سال 1971ء ہے اور وہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایرانی سفارت خانے میں کام کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں