.

ایران میں آبی قلت کے خلاف احتجاج کرنے پرصوبہ اھواز کے 125 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے عرب اکثریتی صوبہ ’الاھواز‘ کے دو شہروں المحمرہ اور عبادان میں پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف ایرانی پولیس نے کریک ڈاؤن کے دوران کم سے کم 125 افراد کو حراست میں لے لیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’الاھواز‘ صوبے میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی پولیس نے حالیہ ایام میں المحمرہ اور عبادان میں ہونے والے مظاہروں کےدوران ایک سو پچیس اھوازی باشندں کو حراست میں لے لیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام افراد کو ایران کی انسداد دہشت گردی پولیس، داخلی سلامتی کے اداروں اور انٹیلی جنس حکام نے حکومت مخالف احتجاج منظم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے جب کہ شہری پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

خیال رہے کہ ایران کے بعض صوبوں میں پانی کی شدید قلت کے خلاف عوام کئی ہفتوں سے احتجاج کررہےہیں ایران کے آبی قلت اور خشک سالی کے شکار شہروں الاھواز، خور موسیٰ، معشور اور عبادان میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق صوبہ الاھواز میں پانی کا بحران ماہ صیام سے جاری ہے۔ شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جب کہ دوسری طرف موسم گرما اپنے عروج پر ہے۔ حکومت شہریوں کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے بجائے الٹا احتجاج کرنے والوں کو ہراساں کررہی ہے۔

الاھواز کے باشندں کا کہنا ہے کہ حکومت نے صوبے میں پانی پر ہونے والی فصلیں بالخصوص چاول کی کاشت سے روک دیا ہے۔ پانی کی قلت کا یہ عالم ہے کہ لوگ 50 ہزار ایرانی ریال میں ایک بیرل پانی خرید کرنے پر مجبور ہیں جب کہ عام طورپر 20 کلو پانی کا گیلن پانچ ہزار ایرانی ریال میں دستیاب ہے۔