.

لیبیا : آب رسانی کے پلانٹ پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں دو ملازمین ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں پانی کے ایک منصوبے کی جگہ پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے دو ملازمین کو ہلاک کردیا ہے اور دو کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے ہیں۔

لیبیا کے انسانی ساختہ آب رسانی کے اس منصوبے پر گذشتہ اڑتالیس گھنٹے میں یہ دوسرا حملہ ہے۔اس منصوبے کی انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گرد دارالحکومت طرابلس سے قریباً ڈیڑھ ہزار کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع علاقے میں شروع کیے گئے آب رسانی کے اس منصوبے پر کام کرنے والے ملازمین ،ان کے خاندانوں اور بچوں پر حملے کررہے ہیں، وہ انھیں ہلاک اور دہشت زدہ کررہے ہیں۔

ہفتے کے روز دہشت گردوں کے حملےمیں ایک انجنر اور ایک سکیورٹی محافظ مارا گیا ہے اور وہ دو محافظوں کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے ہیں۔

آب رسانی کی اس سکیم کے تحت صحرائی علاقے سے زمینی پانی کو پائپوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے ساحلی شہروں تک پہنچایا جار ہا ہے۔

طرابلس سے جنوب میں واقع آب رسانی کے اسی طرح کے ایک اور منصوبے پر جمعہ کو دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا اور وہ تین فلپائنی اور ایک جنوب کوریائی انجنرہ کو ا غوا کرکے لے گئے تھے۔ تاہم ان دونوں حملوں کی کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

تشدد کے ان دونوں واقعات سے دو ہفتے قبل ہی تین ترک شہریوں کو اغوا کاروں نے رہا کیا تھا۔انھیں گذشتہ سال نومبر میں لیبیا کے جنوب مغربی علاقے میں پاور پلانٹ سے تعمیراتی کام کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ لیبیا کے سابق مطلق العنان حکمران معمر قذافی کی 2011ء میں اقتدار سے علاحدگی اور پھر اندوہ ناک قتل کے بعد سے غیر ملکی ورکروں اور سفارتی مشنوں کے اہلکاروں پر حملوں اور ان کے اغوا کے واقعات عام ہوچکے ہیں۔ان واقعات میں داعش سمیت جہادی گروپ یا پھر علاقائی مسلح ملیشیائیں ملوّث ہیں ۔