.

الجزائر کے جنوب میں اقتصادی حالات کے سبب عوامی احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے جنوب میں عوام کی جانب سے پُرتشدد احتجاج کی لہر سامنے آئی ہے۔ یہ صورت حال علاقے کے لوگوں کے سماجی اور اقتصادی حالات بہتر بنانے میں حکام کی ٹال مٹول کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔

الجزائر کے جنوب مغربی صوبے بشار میں مقامی آبادی جمعے کے روز سے سڑکوں پر مظاہروں کے لیے آ گئی۔ یہ لوگ حکومت کی جانب سے پلاٹس اور رہائش کے انتظامات فراہم نہ کرنے پر سراپا احتجاج بن گئے۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کی جانب حکام کی توجہ مبذول کرانے کے لیے مرکزی راستوں کو بند کر دیا۔

سوشل میڈیا پر عوامی احتجاج کے وڈیو کلپ اور تصاویر پھیل چکی ہیں۔ ان میں سڑکوں پر ہنگامہ آرائی اور پرتشدد کارروائیاں نظر آ رہی ہیں۔ احتجاج کرنے والوں نے سڑکوں کو پتھروں سے بند کر دیا اور شاہراہوں پر ٹائر جلائے۔ اس دوران پولیس اہل کاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

بشار صوبے کے شہریوں نے مظاہروں کے دوران بنیادی ضروریات زندگی اور خدمات فراہم کیے جانے کا مطالبہ کیا جن میں بجلی اور پینے کا صاف پانی اہم ترین ہے۔ اس دوران حکام نے حالیہ احتجاج کے ساتھ بھرپور اور فوری طور پر نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ مظاہروں کا سلسلہ دیگر شہروں اور علاقوں میں منتقل نہ ہو۔

اس سلسلے میں مقامی سرکاری ذمّے دار توفیق دزیری نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ رہائش اور پلاٹوں سے مستفید ہونے والوں کے ناموں کی فہرست رواں ماہ کے اواخر تک جاری کر دی جائے گی۔ دزیری نے وعدہ کیا کہ چینی کمپنیوں کے سپرد کیے گئے منصوبوں کے ذریعے پانی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ یہ کمپنیاں اس وقت کنوؤں کی کھدائی میں مصروف ہیں۔