.

برطانوی وزیر خارجہ وزیراعظم تھریزا مے کے بریگزٹ منصوبے کے خلاف احتجاجاً مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے وزیراعظم تھریز امے کے یورپی یونین سے علاحدگی کے منصوبے پر بہ طور احتجاج استعفیٰ دے دیا ہے۔ان سے قبل آج سوموار کو برطانیہ کے وزیر برائے بریگزٹ ڈیو س ڈیوس بھی اس منصوبے پر وزیراعظم سے اختلاف کی بنا پر مستعفی ہوگئے ہیں۔

تھریزا مے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’اس دوپہر کو وزیراعظم نے بورس جانسن کا سیکریٹری خارجہ کی حیثیت سے استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔ان کے متبادل کا بہت جلد اعلان کردیا جائے گا۔وزیراعظم نے بورس کا ان کے کام (خدمات) پر شکریہ ادا کیا ہے‘‘۔

بورس جانسن نے گذشتہ روز لندن میں اپنی سرکاری قیام گاہ پر یورپی یونین سے برطانیہ کی علاحدگی کے لیے ہونے والے اجلاسوں کو منسوخ کردیا تھا۔ ان میں بریگزٹ منصوبے پر غور کیا جانا تھا۔

ان دونوں وزراء کے مستعفی ہونے کے بعد وزیراعظم تھریز ا مے کا بریگزٹ منصوبہ تار تار ہوتا نظر آرہا ہے اور وہ اپنی کابینہ کے ارکان کو برطانیہ کی خارجہ اور تجارتی پالیسی میں اس بڑی اور اہم تبدیلی پر متحد اور مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہیں۔اب ان کے’’ کاروبار دوست بریگزٹ‘‘ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے عزم پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔اگر وہ اس پر عمل درآمد کرتی ہیں تو ان کی کابینہ کے مزید وزراء بھی مستعفی ہوسکتے ہیں اور پھر انھیں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑسکتے ہیں۔