.

شام کی تعمیرِ نو اولین ترجیح ہے: بشار الاسد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ جنگ زدہ ملک کی تعمیرِ نو ان کی اولین ترجیح ہے مگر ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی جاری رکھی جائے گی۔

وہ سوموار کو دارالحکومت دمشق میں شامی سفارت کاروں کے ایک اجتماع میں گفتگو کررہے تھے۔اس موقع پر شامی وزیر خارجہ ولید المعلم بھی موجود تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت ترمیمی قانون سازی ، دہشت گردی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے مہاجرین کی واپسی اور معطل سیاسی عمل کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

شام 2011ء سے خانہ جنگی اور جنگ کا شکار ہے۔شامی صدر کے خلاف اس سال کے اوائل میں احتجاجی مظاہروں سے پُرامن تحریک کا آغاز ہوا تھا لیکن اسد حکومت کے نہتے مظاہرین کے خلاف مسلح کریک ڈاؤن سے اس نے بہت جلد تشدد کا رُخ اختیار کر لیا تھا اور اب گذشتہ سات سال سے جاری لڑائی کے نتیجے میں ملک کا ڈھانچا ، اسکول ، اسپتال ،سرکاری عمارتیں اور دفاتر تباہ ہوچکے ہیں ۔

2017ء میں عالمی بنک نے شام میں جنگ سے متعلق نقصانات کا تخمینہ 226 ارب ڈالرز لگایا تھا اور یہ رقم جنگ سے قبل ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے حجم سے چار گُنا زیادہ تھی۔

مغربی ممالک کے اعلیٰ عہدے دار وں کا اس بات پر اصرار رہا ہے کہ وہ بشار الاسد کی اقتدار سے رخصتی اور قابلِ اعتبار انتقالِ اقتدار کے بغیر شام کی تعمیر نو میں کوئی مدد نہیں کریں گے۔

بشارالاسد یورپی ممالک کے اس مطالبے کو مسترد کرتے چلے آرہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ان ممالک کی تعمیرِ نو کے لیے مشروط مالی امداد کو قبول نہیں کریں گے۔ان کے بہ قول ملک کی تعمیر نو کی کم سے کم لاگت 200 ارب ڈالرز ہوسکتی ہے۔

انھوں نے جون میں رو س کے این ٹی وی نیٹ ورک کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ مغرب شام میں تعمیرِنو کا حصہ دار نہیں ہوگا۔اس کی وجہ بالکل سادہ ہے،ہم انھیں اس کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دیں گے خواہ وہ رقوم کے ساتھ آئیں یا اس کے بغیر‘‘۔