.

جاپان میں سزائے موت پانے والے عجیب وغریب عقائد کے حامل شخص کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ جمعہ کے روز جاپان میں ایک مذہبی فرقے 'اوم شنریکیو' کے بانی 'اسا ھارا شوکو' کو اس کے چھ ساتھیوں سمیت دی گئی سزائے موت کے تحت موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ 'اسا ھارا شوکو'کے بارے میں کئی عجیب وغریب باتیں مشہور ہیں۔

اسے سنہ 1995ء میں ٹوکیو کی میٹرو ٹرین میں سیرین گیس کے حملے میں قصور وار قرار دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ اس حملے کے نتیجے میں 8005 افراد متاثر ہوئے تھے اور وہ آج تک اس کے اثرات سے باہر نہیں آسکے۔

'العربیہ ڈاٹ نیٹ' نے "اوم' فرقے کے بانی اور اس کے عجیب وغریب عقاید ونظریات پر روشنی ڈالی ہے۔ مذہبی طور پر وہ کسی ایک علاقائی مذہب کا پیروکار نہیں تھا بلکہ اس کے عقاید میں ایک ہی وقت میں بدھ مذہب اور ہندو مذہب کے نظریات شامل تھے۔ 'اوم' فرقے کا اعلان کرنے کے بعد 'اسا ھارا شوکو' پوری زندگی 'اختتام کائنات' کے نظریے کی ترویج کرتا رہا ہے۔

تطہیر نفس اور دینی انسانی اقدار کے بجائے 'اوم شنریکیو' کی تعلیمات میں دوسروں کے قتل پراکسانے کا عجیب فلسفہ کار فرما رہا۔ اس کا کہنا تھا کہ دوسروں کا قتل کرکے اس کے فرقے کے پیروکار ابدی زندگی حاصل کریں گے۔ سنہ 1995ء میں ٹوکیو کی میٹرو ٹرین میں مہلک گیس سے حملہ اسی سوچ اورفکر کا نتیجہ تھا۔ اس کے پیروکار اپنی برائیوں کی پاکیزگی کے لیے دوسروں کی جان لینے کو کار ثواب سمجھتے۔

'اندھے' یوگا کا مربی

'اسا ھارا شوکو'کا اصل نام "شیزو مازومو" بتایا جاتا ہے۔ اس نے اپنا الگ مذہبی فرقہ قائم کیا جسے " اساھارا شوکو" بھی کہا جاتا ہے۔ 'اسا ھارا شوکو' جاپان کا پہلا شخص ہے جسے سنہ 1995ء میں دہشت گردی کے جرم میں کئی سال کے بعد سزائے موت دی گئی۔

سزائے موقت پرعمل درآمد کے وقت 'اسا ھارا شوکو'کی عمر 63 سال تھی۔ بونے قد کا حامل یہ شخص دو مارچ 1955 کو پیدا ہوا۔ بینائی کی کمزوری میں مبتلا 'اسا ھارا شوکو' یوگا کا ماہرتھا۔

سنہ 2004ء میں اس پر میٹرو ٹرین میں مہلک گیس سے حملے میں قصور وار ہونے کے جرم سمیت 13 الزامات کے تحت فرد جرم عاید کی گئی تاہم وہ آخر تک خود کو ' بے قصور' قرار دیتا رہا ہے۔

عجیب وغریب نظریات

'اسا ھارا شوکو'کو شہرت اس وقت ملی جب اس نے اپنے عجیب وغریب نظریات کا پرچارک شروع کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ دُنیا ختم ہونے والی ہے۔ عن قریب امریکا جاپان پر حملہ آور ہوگا اور پورے جاپان کو کوڑے کرکٹ کا ڈھیر بنا دے گا۔ سنہ 1987ء کو اس نے اپنے نظریات کی ترویج کے لیے AUM کےنام سے ایک کمپنی کی بھی بنیاد رکھی۔

اس نے دعویٰ کیا کہ وہ مستقبل میں ہونے والے واقعات کو دیکھ رہا ہے۔ تیسرے عالمی جنگ اس کے سامنے ہے جو کچھ ہی عرصے میں شروع ہونے والی ہے۔ بہت سے لوگ اس کی باتوں پریقین کرلیتے۔ جاپان کے اندر اور باہر آج بھی اس کے پیروکاروں کی تعداد 10 ہزار سے زاید ہے۔ ان میں جامعات کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی شامل ہیں۔

'اسا ھارا شوکو' اور اس کے پیروکاروں نے زندگی کا بیشتر حصہ جاپان کے فوگی پہاڑی علاقے میں بسرکیا۔ اس نے ایک درسگاہ بنائی جس میں اپنے پیروکاروں کو مخصوص مذہبی رسومات کی تعلیم دی۔ اُنہیں اسلحہ چلانا حتیٰ کہ سیرین گیس کے استعمال کا طریقہ بھی اسی درسگاہ میں سکھایا گیا۔

فرقے کا قیام اور اس کی اشاعت

'اوم شنریکیو' فرقے کو 'قیامت کے روز کی عبادت' کا گروہ بھی قرار دیا جاتا۔ سنہ 1984ء میں قائم کردہ اس فرقے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔ یورپی یونین، کینیڈا، امریکا اور روس میں بھی اس پر پابندی عاید کردی گئی۔

اس نے'اوم' کے لفظ کو اپنا سلوگن بنایا۔ یہ لفظ مشرقی بدھ اور ہندو عقاید میں روحانیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب اس نے اپنا فرقہ بنایا تو وہ اس وقت ٹوکیو میں ایک کمرے میں رہتا جہاں وہ یوگا اور غور فکر میں مشغول رہتا۔

نظریات

'اوم شنریکیو' کے سربراہ اسا ھارا کے نظریات میں کئی مذاہب کے عقاید شامل تھے۔ اس کے نظریات کومشرقی ایشیا میں کافی پذیرائی ملی بالخصوص اختتام کائنات کے نظریعے کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔

سنہ 1992ء میں اس کی تعلیمات پرمبنی ایک کتابچہ شائع ہوا جس میں اس نے خود کو 'جاپان کا سردار' قرار دیا اور کہا کہ وہ واحد شخص ہے جس سے روحانی رہ نمائی حاصل کی جا سکتی ہے، نیز وہ زمین پر خدا کا اوتار ہے۔

وہ یہ دعویٰ کرتا کہ اس کے پیروکاروں کے گناہوں کا بوجھ وہ خود اٹھائے گا۔ اس کی روحانی طاقت اس کےپیروکاروں کو منتقل ہوگی۔ اس کے بعض نظریات بدھ مذہب کی تعلیمات سے متضاد ہیں مگر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ 'اوم شنریکیو' بدھ مذہب ہی کا ایک ذیلی گروہ ہے۔

اس کے دیگر افکار میں قرب قیامت، کائنات کی جنگ اور امریکا کے خلاف اکسانے کے نظریات شامل تھے۔ رابرٹ جے لیفٹن نے اس کے نظریات پر ایک مکمل کتاب لکھی ہے۔

نجات کس کو ملے گی؟

"اسا ھارا" کا کہنا تھا کہ زمین پر انسان کا وجود عن قریب ختم ہوجائے گا اور صرف اس کے فرقے'اوم' کے پیروکار زندہ بچیں گے۔ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں گے۔

اس نے دعویٰ کیا کہ سنہ 1997ء میں ہرمیگاڈون کی جنگ چھڑے گی تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ امریکیوں کو "وحشی" قرار دیتا اور دعویٰ کرتا کہ دنیا امریکیوں کےہاتھوں تباہ ہوگی۔ پرانی جنگوں میں بھی امریکی وحشت کا حوالہ ملتا ہے۔

اس کے عجیب وغریب افکار میں سے ایک یہ کہ مخالفین کو قتل کرکے اس کے پیروکار عذاب سے بچ سکتےہیں۔