.

نئے ترک وزیرخزانہ ،صدر ایردوآن کے داماد افراط ِ زر کی شرح نیچے لانے کے لیے پُرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے نئے وزیر خزانہ ، صدر رجب طیب ایردوآن کے داماد بیراط البیراک نے افراط زر کی شرح کو کم کرکے ایک عدد تک لانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

بیراط ترک صدر کی بڑی بیٹی ایسرا کے خاوند ہیں۔انھیں نئی کابینہ میں سوموار کو خزانے اور اقتصادی امور کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ سابقہ کابینہ میں توانائی کے وزیر تھے۔

انھوں نے سبکدوش وزیر خزانہ اور نائب وزیر اعظم محمد سیمسک سے اپنا منصب سنبھالنے کے موقع پر منعقدہ تقریب میں کہا کہ ’’آیندہ دور میں ہم افراطِ زر کو واحد عدد تک لانے کے لیے جاں فشانی سے کام کریں گے‘‘۔

ترکی میں جون میں افراطِ زر کی شرح 15 فی صد سے بڑھ گئی تھی۔ گذشتہ ڈیڑھ ایک عشرے کے دوران میں یہ پہلا موقع ہے کہ افراطِ زر کی شرح میں اس قدر اضافہ ہواہے ۔اس سے ان خدشات نے جنم لیا ہے کہ ترکی کی معیشت شاید ابتری کی جانب گامزن ہے۔

چالیس سالہ البیراک نے ملکی معیشت کی بہتری کے لیے آنے والے وقت میں’’ آزاد اداروں کی بنیاد پر مزید کامیاب کارکردگی ‘‘کا مظاہرہ کرنے کا وعدہ کیا ہےاور کہا ہے کہ ترکی مالیاتی اور میزانیے کے نظم وضبط میں دنیا کے لیے ایک مثال قائم کرے گا۔انھوں نے ایک توانا مالیاتی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اظہار کیا لیکن اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

انھوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ ترکی ایک نئی کہانی رقم کرے گا۔

ترک کرنسی کی قدر میں کمی

البیراک کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے تقرر کے بعد ترک لیرا کی قدر میں سوموار کو ڈالر کے مقابلے میں 3.5 فی صد سے بھی زیادہ کمی واقع ہوئی ہے اور صدر رجب طیب ایردوآن کے مرکزی بنک سے نئے نظام کے تحت تعلق کے پیش نظر بازار حصص میں بھی اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ البتہ منگل کو ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر میں معمولی بہتری آئی تھی اور اس کی قدر میں 0.5 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

صدر طیب ایردوآن حالیہ مہینوں میں متعدد مرتبہ ترکی کے مرکزی بنک پر سود کے نرخ میں کٹوتی پر زور دے چکے ہیں ۔اس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ مرکزی بنک کی آزادی میں حائل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

انھوں مرکزی بنک کے اختیارات کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے صدارتی فرامین جار ی کیے ہیں۔ ان میں کہا گیا ہے کہ اب مرکزی بنک کے گورنر کے پاس اپنے نائبین کے تقرر کا اختیار نہیں رہا ہے اور صدر براہ راست گورنر کو نامزد کریں گے اور انھیں اس سلسلے میں حکومت سے مشاورت کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔

کیپٹل اکنامکس کے ایک اقتصادی ماہر جیسن ٹووے کا کہنا ہے کہ ’’ صدر ایردوآن جس رفتار سے (اداروں پر) اپنی گرفت مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ بہت ہی خطرناک ہے۔اس کےنتیجے میں ترکی کے مالیاتی اثاثے دباؤ میں آگئے ہیں‘‘۔