.

'انسٹا گرام' پر رقص کی ویڈیو پوسٹ کرنے پر 18 سالہ ایرانی دوشیزہ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں پولیس نے سوشل میڈیا بالخصوص 'انسٹاگرام' پر رقص کی ویڈیو پوسٹ کرنے کے الزام میں متعدد خواتین کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں ایک 18 سالہ دوشیزہ بھی شامل ہے۔

انسٹا گرام پر متنازع ویڈیو پوسٹ کرنے کے الزام میں شوقیہ رقاصائوں کی گرفتاریوں پر عوامی حلقوں میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کی گرفتاری 'انقلابی اقدار' کی توہین کے جرم میں عمل میں لائی گئی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' پر سماجی کارکنوں نے "مائدہ ۔ ھژبری ھیش ٹیگ' اور 'برقص تا برقصیم [تم رقص کرو تاکہ میں بھی رقص کروں] کے عنوانات سے مہم شروع کی ہے جس میں شہریوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔

پولیس نے رقص کی تربیت دینے والی متعدد خواتین کو بھی گرفتار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری عدالت کے حکم پر عمل میں لائی گئی ہیں۔ گرفتار خواتین کو سرکاری ٹی وی پر 'اعتراف جرم' کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

گرفتار کی گئی خواتین میں دو کی شناخت مائدہ ھژبری اور بناء کے ناموں سے کی گئی ہے اور ان کے مبینہ اعترافی بیانات بھی ٹی وی چینل پر نشر کئے گئے ہیں۔ مائدہ کو یہ کہتے سنا جاسکتا کہ اس نے اپنے رقص کی ویڈیو اس لیے انسٹا گرام پر پوسٹ کی تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ فالورز ملیں تاہم اسے مقامی موسیقی کے مقابلے میں اور مغربی موسیقی کو ایران میں پسند کیے جانے کی زیادہ توقع نہیں۔

سرکاری ٹی وی پر دکھائے گئے بیان میں مایدہ کو روتے ہوئے یہ کہتے دیکھا جا سکتا ہے کہ اس نے غیراخلاقی ارادے سے اپنے رقص کی فوٹیج انسٹا گرام پر پوسٹ نہیں کی۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ لوگ اسے کتنا پسند کریں گے۔