.

پیرس: مظاہرین کا ایرانی سفارت کار "اسدی" کو تہران کے حوالے نہ کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایرانی اپوزیشن کے درجنوں حامیوں نے منگل کے روز فرانسیسی وزارت خارجہ کی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین ایرانی سفارت خانے میں کام کرنے والے سفارت کار اسد اللہ اسدی کو تہران کے حوالے کیے جانے کی خبروں پر احتجاج کر رہے تھے۔ اسدی پر الزام ہے کہ اس نے ایک دہشت گرد کو بم حوالے کیا تھا جس نے 30 جون کو پیرس میں ایرانی اپوزیشن کی کانفرنس میں دھماکے کی ناکام کوشش کی۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جن میں دہشت گرد سفارت کار کو تہران کے حوالے نہ کیے جانے، ایرانی سفارتی مشنوں کے دفاتر بند کر دینے اور ایرانی حکومت کے سفیروں کو بے دخل کر دینے کے مطالبات کیے گئے تھے۔

ادھر ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل کے ارکان کا کہنا ہے کہ ملزم کے سالانہ کانفرنس پر دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کے ثبوت کے باوجود اسے تہران کے حوالے کر دیے جانے کا اندیشہ ہے۔

ایرانی اپوزیشن کی تنظیم مجاہدینِ خلق کے کارکنان نے منگل کی دوپہر پیرس کے "انولیڈ" اسکوائر پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ملزم سفارت کار کے خلاف عدالتی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے کے منتظمین کے مطابق اس طرح کی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں کہ ایرانی نظام فرانس، جرمنی اور بیلجیم کے خلاف دباؤ کا استعمال کر رہا ہے تا کہ مذکورہ سفارت کار کے خلاف عدالتی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے۔ آسٹریا پہلے ہی اس سفارت کار کو حاصل سفارتی مامونیت واپس لے چکا ہے۔

یورپی ذرائع نے اعلان کیا تھا کہ جرمنی 47 سالہ اسد اللہ اسدی کو بیلجیم کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہا ہے تا کہ اسدی کو 38 سالہ امیر سعدونی (حملہ آور) اور 33 سالہ خاتون نسیمہ نومنی کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جا سکے۔ آخری دونوں افراد ایرانی باشندے ہیں جن کے پاس بیلجیم کی شہریت ہے۔ مذکورہ دونوں افراد نے بتایا کہ انہیں کارروائی سے ایک روز قبل اسدی کی جانب سے لیگزمبرگ میں ایک بم حوالے کیا گیا تھا۔

بیلجیم کے جنرل پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ سکیورٹی اداروں نے دونوں افراد کو نظر میں لے کر انہیں گرفتار کر لیا جب کہ وہ بیلجیم اور فرانس کی سرحد کے نزدیک شہر انتورب میں کانفرنس کے مقام کی جانب جا رہے تھے۔ ان افراد کی گاڑی میں 500 گرام دھماکا خیز مواد Acetone-peroxide موجود تھا۔