الحدیدہ میں عارضی جنگ بندی امن کو ایک اور موقع دینے کی کوشش ہے: المعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مندوب عبداللہ المعلمی نے کہا ہے کہ ریاض کی سربراہی میں یمن میں آئینی حکومت کی حمایت میں برسرپیکار عرب اتحاد کی طرف سے ساحلی شہر الحدیدہ میں عارضی جنگ بندی کرکے امن کو ایک اور موقع دینے کی کوشش کی ہے۔

’العربیہ‘ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے المعلمی کا کہنا تھا کہ الحدیدہ میں جنگ بندی عارضی ہے اور اس کا مقصد شہر کو جنگ کے بجائے سیاسی عمل اور بات چیت کے ذریعے باغیوں کے قبضے سے چھڑایا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں المعلمی کا کہنا تھا کہ لبنانی حزب اللہ کا ہر جگہ مقابلہ کیا جائے گا اور اس کے جرائم پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیے جائیں گے۔ انہوں نے حزب اللہ پر عرب ممالک اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں کا الزام عاید کیا۔

اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی مندوب مارٹن گریفتھ کی امن مساعی کے بارے میں بات کرتے ہوئے سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں گریفتھ باغیوں کو راہ راست پر لانے کے لیے تا حال کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کر پائے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ حوثی باغی مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ وہ عالمی ثالثوں کو استعمال کرکے مزید وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر یہ طرز عمل قابل قبول نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں